تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا

by Other Authors

Page 68 of 379

تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 68

68 پر امن جماعت کی فہرست میں نام درج ہے۔نور القرآن نمبر۲ میں امام کامل کی خدمت کرنے والوں میں آپ کا نام بھی درج ہے۔وفات : آپ کی وفات ۱۵ / اکتوبر ۱۹۲۶ء کو ہوئی۔آپ کی وصیت نمبر ۲۵۱۷ ہے تدفین قطعہ نمبر ا میں ہوئی۔ماخذ : (۱) تحفہ قیصریہ (۲) کتاب البریہ (۳) نور القرآن نمبر ۲ (۴) ”خطبات محمود جلد نمبر ۲ صفحه ۳۶۲ (۵) سیرة المہدی حصہ سوم صفحه ۱۳۴ (۶) " تاریخ احمد یہ سرحد صفحہ ۵۸-۵۹ (۷) اصحاب احمد‘ جلد دوم صفحہ ۶۲۶ (۸) الفضل ۲۶ اکتوبر ۱۹۲۶ء ☆ ۲۹ - حضرت سیٹھ عبدالرحمن صاحب حاجی اللہ رکھا معہ اہلبیت مدراس بیعت : ۱۱ جنوری ۱۸۹۴ء۔وفات : ۱۹۱۵ء تعارف: حضرت سیٹھ عبدالرحمن رضی اللہ عنہ مدراس کے ایک متمول تاجر میمن خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔بیعت : آپ اسلام کی مخدوش حالت سے پریشان تھے اور کسی مجدد، مہدی اور مسیح کے لئے بے قراری سے منتظر تھے۔اسی دوران حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی تصنیف لطیف فتح اسلام پر دل و جان سے فریفتہ ہو گئے۔قادیان سے اور بھی کتابیں منگوائیں جو آپ نے بالاستیعاب پڑھیں۔جب قادیان کے سفر کے لئے تیار ہوئے تو ۱۸۹۴ء میں آپ کے ساتھ مولوی حسن علی صاحب مسلم مشنری بھی تشریف لائے۔چند دنوں کے قیام سے دونوں اس بات کے قائل ہو گئے کہ آپ عین وقت پر تشریف لائے ہیں۔آپ نے 11 جنوری ۱۸۹۴ء کو بیعت کی سعادت پائی۔حضرت اقدس سے تعلق اخلاص و وفا : آپ کا سارا خاندان احمدی تھا۔آپ کے اخلاص کی یہ حالت تھی کہ اگر ان کے پاس کچھ نہ ہوتا تو بھی وہ حضرت اقدس کو قرض لے کر روپیہ بھیجتے رہتے۔ایک دفعہ ان کو کاروبار میں سخت نقصان پہنچا اور سب کچھ نیلام ہو گیا۔انہوں نے حضرت اقدس کی خدمت میں دعا کے لئے لکھا۔تھوڑے عرصہ کے بعد تین سور و پید انہوں نے بھیجا۔حضرت اقدس نے فرمایا آپ کی یہ حالت تھی تو آپ نے روپیہ کیسے بھیجا۔جس کے جواب میں انہوں نے عرض کی کہ میں نے کچھ رو پید اپنی ضروریات کے لیے قرض لیا تھا اس میں خدا کا بھی حق تھا سو میں نے وہ ادا کر دیا۔آپ کی محبت اور اخلاص کا ذکر حقیقۃ الوحی میں نشان نمبر ۹۸ سے ملتا ہے آپ کے متعلق حضرت اقدس کا یہ الہام مشہور ہے۔قادر ہے وہ بارگہ ٹوٹا کام بناوے بنا بنایا توڑ دے کوئی اس کا بھید نہ پاوے ایک ایمان افروز واقعہ: آپ کے ایک ایمان افروز واقعہ کا حال حضرت عزیز الدین صاحب بیان فرماتے ہیں کہ: