تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 52
52 آپ کا ایک مباحثہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت پر ایک بڑے انگریزی تعلیم یافتہ اور مسلمان عہدیدار سے ہوا تھا اور اس کے خیالات اس قسم کے تھے کہ آنحضرت نے کمال دانائی اور عاقبت اندیشی سے ختم نبوت کا دعوی کیا کیونکہ آپ کو زمانہ کی حالت سے یہ یقین تھا کہ لوگوں کی عقلیں اب بہت بڑھ گئی ہیں اور آئندہ زمانہ اب نہیں آئے گا کہ لوگ کسی کو مرسل یا مهبط وحی مان سکیں۔ایک طرف آپ کو ان خیالات سے صدمہ ہوا دوسری طرف وزیر اعظم جموں نے حضرت اقدس کا پہلا اشتہار دیا۔اس میں اس ” سوفسطائی“ کا ظاہر اور بین جواب تھا۔آپ یہ اشتہار لے کر اس عہدیدار کے پاس گئے اور اس سے کہا کہ دیکھو کہ تمہاری وہ دلیل غلط اور ظنی ہے اس وقت بھی ایک شخص نبوت کا مدعی موجود ہے اور وہ کہتا ہے کہ خدا مجھ سے کلام کرتا ہے۔وہ سخت گھبرایا اور حیرت زدہ ہو کر بولا اچھا دیکھا جاوے گا۔“ قادیان آمد: حضرت مولوی صاحب اس اشتہار کے مطابق اس امر کی تحقیق کے واسطے قادیان کی طرف چل پڑے۔مارچ ۱۸۸۵ء میں قادیان پہنچے۔اس وقت حضور نے نہ بیعت کا سلسلہ شروع کیا اور نہ مسیحیت کے مدعی تھے مگر مولوی صاحب نے حضور کا نورانی مکھڑا دیکھتے ہی انوار مسیحیت کو بھانپ لیا اور آپ کی محبت اور عقیدت میں ایسے کھوئے گئے کہ بیچ بچے اپنے آپ کو حضور کے قدموں پر قربان اور فدا کر دیا۔آپ نے دیکھتے ہی دل میں کہا یہی مرزا ہے اس پر میں سارا قربان ہو جاؤں یہ تعلق محبت بڑھتا گیا یہاں تک کہ ایک مرتبہ حضرت مولوی صاحب جموں میں بیمار ہوئے تو حضرت اقدس مولوی صاحب کی تیمارداری کے لئے جموں بھی تشریف لے گئے۔بیعت حضرت اقدس : حضرت مولوی صاحب نے ایک عرصہ سے حضرت اقدس کی خدمت میں عرض کر رکھا تھا کہ جب حضور کو بیعت کا اذن ہو تو سب سے پہلی بیعت آپ کی لی جائے۔چنانچہ حضور نے یہ درخواست منظور فرمائی۔جب حضور کو بیعت کا اذن ہوا تو حضور نے آپ کو بیعت سے پہلے استخارہ کا ارشاد فرمایا۔چنانچہ مولوی صاحب استخارہ کر کے لدھیانہ پہنچے۔۲۳ مارچ ۱۸۸۹ء کو بیعت کا دن مقرر تھا اور آپ نے سب سے پہلے بیعت کی سعادت حاصل کی۔آپ کی زوجہ حضرت صغری بیگم جو حضرت صوفی احمد جان لدھیانہ کی بیٹی تھیں، نے خواتین میں سے سب سے پہلے بیعت کی۔تاریخ بیعت ۲۵/ مارچ ۱۸۸۹ء ہے اور بیعت نمبر ۶۹ ہے۔(رجسٹر بیعت اولی) مقدس آقا اپنے صحت کی نگاہ میں : حضرت حکیم حافظ مولانا نور الدین صاحب (خلیفہ اصبح الاول) اپنے ایک خط میں اپنی فدائیت اور اخلاص کا یوں ذکر فرماتے ہیں۔مولانا۔مرشدنا امامنا ! السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبر کاتہ۔عالیجناب میری دعا یہ ہے کہ ہر وقت حضور کی جناب میں حاضر رہوں اور امام زمان سے جس مطلب کے واسطے وہ مجدد کیا گیا وہ مطالب حاصل کروں۔اگر اجازت ہو تو میں نوکری سے استعفاء دے دوں اور دن رات خدمت عالی میں پڑار ہوں۔یا اگر حکم ہو تو اس تعلق کو چھوڑ کر دنیا