تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 29
29 بہادر پٹھان ہوتے ہیں میں ذات کا چھینہ ہوں مگر اس بات کو سچا کرنے کے لئے خدا نے مجھے خانصاحب کا خطاب دلایا۔آپ کا حسن اخلاق : حضرت منشی صاحب کے بارے میں مسٹر ایل فریج وزیر اعظم کپورتھلہ (جو بعد میں پنجاب کے چیف سیکرٹری ہو گئے تھے ) نے لوگوں سے پوچھا کہ تمہارا تحصیلدار کیسا ہے سب نے یک زبان ہو کر کہا کہ وہ ہمارے لئے باپ کی مانند ہے اور ہمارا سچا ہمدرد ہے۔اخلاص و فدائیت اور حضرت اقدس سے عاشقانہ تعلق : آپ اپنی تنخواہ میں سے کچھ رقم قوت لایموت کے لئے رکھ لیتے اور جب کچھ رقم جمع ہو جاتی تو قادیان کا سفر کرتے ہوئے خوشی محسوس کرتے اور وہ رقم حضور اقدس کے قدموں میں ڈھیر کر دیتے یا حضرت اماں جان کی نذر کر دیتے تھے۔آپ اکثر قادیان جاتے تھے۔حضرت اقدس کے عشاق کی صف اول میں شمار ہوتے تھے۔جن دنوں آپ سیشن جج کے دفتر میں ملازم تھے۔آپ نے مجسٹریٹ سے کہا کہ مجھے چھٹی دے دیں میں نے قادیان جانا ہے۔مجسٹریٹ نے کہا کہ کام بہت زیادہ ہے چھٹی نہیں دی جاسکتی۔منشی صاحب نے کہا اچھا آپ کا کام ہوتا رہے میں تو آج ہی دعا میں لگ جاتا ہوں آخر مجسٹریٹ کو کوئی ایسا نقصان ہوا کہ وہ سخت ڈر گیا اور جب ہفتہ کا دن آتا تو وہ عدالت والوں کو کہتا کہ کام خود جلدی بند کر دینا منشی صاحب کی گاڑی کا وقت نہ نکل جائے۔حضرت اقدس کی کتب میں آپ کا ذکر ازالہ اوہام، نشان آسانی میں نمبر پر جلسہ سالانہ ۱۸۹ء میں۔آئینہ کمالات اسلام میں شرکاء جلسہ سالانہ ۱۸۹۲ء میں نمبر ۲ پر اور چندہ دہندگان میں نمبر پر ذکر ہے۔ضمیمہ انجام آتھم میں آپ کے اخلاص اور آریہ دھرم میں کپورتھلہ کی پر امن جماعت کے طور پر ذکر ہے۔تحفہ قیصریہ میں ۱۸۹۷ء کے جلسہ ڈائمنڈ جو بلی کے شرکاء میں آپ کا تذکرہ ملتا ہے۔ملفوظات جلد اول وجلد سوم (جدید ایڈیشن) میں بھی مخلصین میں ذکر ہے۔حضرت اقدسش ازالہ اوہام میں فرماتے ہیں: تمی فی اللہ منشی محمد اروڑ انقشہ نویس مجسٹریٹی۔منشی صاحب محبت اور خلوص اور ارادات میں زندہ دل آدمی ہیں۔سچائی کے عاشق اور سچائی کو بہت جلد سمجھ جاتے ہیں خدمات کو نہایت نشاط سے بجالاتے ہیں بلکہ وہ تو دن رات اسی فکر میں لگے رہتے ہیں کہ کوئی خدمت مجھ سے صادر ہو جائے۔عجیب منشرح الصدر اور جان شار آدمی ہے۔میں خیال کرتا ہوں کہ اُن کو اس عاجز سے ایک نسبت عشق ہے۔شاید ان کو اس سے بڑھ کر اور کسی بات میں خوشی نہیں ہوتی ہوگی کہ اپنی طاقتوں اور اپنے مال اور اپنے وجود کی ہر ایک توفیق سے کوئی خدمت بجالا دیں۔وہ دل و جان سے وفادار اور مستقیم الاحوال اور بہادر آدمی ہیں۔خدا تعالیٰ ان کو جزائے خیر بخشے۔آمین۔“ (ازالہ اوہام حصہ دوم روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۵۳۲) آپ کے اخلاص کے بارہ میں تاریخی شہادت: ایک موقعہ پر حضرت اقدس نے ایک کتاب کی اشاعت و