تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 23
23 نے جب حضرت اقدس کی کتاب براہین احمدیہ پڑھنی شروع کی تو اللہ تعالیٰ کی ہستی پر آپ کو کامل یقین ہو گیا۔رجسٹر روایات جلد نمبرے میں آپ کی روایت درج ہے:۔براہین کیا تھی آب حیات کا بحر ذخار تھا۔براہین کیا تھی ایک تریاق کو ہ لائی تھا یا تریاق اربعہ دافع صرع و لقوہ تھا۔براہین کی تھی ایک عین روح القدس یا روح مکرم یا روح اعظم تھا۔براہین کیا تھی يُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِهِ وَالْمَلَائِكَةُ مِنْ خِيفَتِهِ تھی ایک نورِ خدا تھا جس کے ظہور سے ظلمت کا فور ہوگئی۔آریہ، برہم ، دہریہ لیکچر اروں کے بداثر نے مجھے اور مجھ جیسے اکثروں کو ہلاک کر دیا تھا اور ان اثرات کے ما تحت لا یعنی زندگی بسر کر رہا تھا کہ براہین احمدیہ پڑھتے پڑھتے جب میں ہستی باری تعالیٰ کے ثبوت کو پڑھتا ہوں صفحہ ۹۰ کے حاشیہ نمبر اپر اور صفحہ ۱۴۹ کے حاشیہ نمبر پر پہنچا تو معا میری دہریت کا فور ہوگئی اور میری آنکھ ایسے کھلی جس طرح کوئی سویا ہوایا مرا ہوا۔۔۔زندہ ہو جاتا ہے۔(اخبار الحکم اکتوبر ۱۹۳۸ء) سردی کا موسم جنوری ۱۸۹۳ء کی ۱۹ تاریخ تھی۔آدھی رات کا وقت تھا جب میں ہونا چاہئے“ اور ” ہے“ کے مقام پر پہنچا۔پڑھتے ہی توبہ کی۔کورا گھڑا پانی کا بھرا با ہر حسن میں پڑا تھا۔سرد پانی سے تہہ بند پاک کیا۔میرا ملازم سمی منگو سور ہا تھا وہ جاگ پڑا۔وہ مجھ سے پوچھتا تھا کہ کیا ہوا؟ لاچہ ( تہہ بند ) مجھ کو دو۔میں دھوتا ہوں مگر میں اس وقت ایسی شراب پی چکا تھا کہ جس کا نشہ مجھے کسی سے کلام کرنے کی اجازت نہ دیتا تھا۔آخرمنکو اپنا سارا زور لگا کر خاموش ہو گیا اور میں نے گیلا لاچہ پہن کر نماز پڑھنی شروع کی اور منگتو دیکھتا رہا۔محویت کے عالم میں نماز اس قدر لمبی ہوئی منگو تھک کر سو گیا اور میں نماز میں مشغول رہا۔پس یہ نماز براہین نے پڑھائی کہ بعد ازاں آج تک میں نے نماز نہیں چھوڑی۔یہ حضرت مسیح موعود کے ایک عظیم معجزہ کا اثر تھا۔اس پر میری صبح ہوئی تو میں وہ محمد دین نہ تھا جوکل شام تک تھا۔“ بیعت : حضرت منشی جلال الدین بلانی تشریف لائے تو ان سے پتہ پوچھ کر بیعت کا خط لکھ دیا اور ۵ جون ۱۸۹۵ء کو حضرت اقدس سے دستی بیعت کی۔خدمات : آپ نے ریٹائر ہونے کے بعد قادیان میں سکونت اختیار کی۔سندھ کی زرعی زمینوں کے نگران رہے۔تقسیم ملک کے بعد قادیان میں درویش کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے۔(۱۹۳۰ء میں آپ نے خدمت دین کے لئے وقف زندگی کی تھی۔) حضرت اقدس کی کتب میں ذکر : حضرت اقدس نے کتاب البریہ میں اپنی پر امن جماعت کے ضمن میں آپ کا ذکر فرمایا ہے۔وفات: قادیان میں یکم نومبر ۱۹۵۱ء کو وفات پائی اور بہشتی مقبرہ قادیان میں تدفین ہوئی۔آپ کا وصیت نمبر ۱۸۵ ہے ۲۳ اکتوبر ۱۹۰۶ء کو آپ نظام وصیت میں شامل ہوئے۔