تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 301
301 درج ہے۔یہ بھی حضرت حکیم مولانا نور الدین رضی اللہ عنہ کے علمی اور روحانی فیضان کا ہی کرشمہ نظر آتا ہے کہ ایک تعلیم یافتہ اہم شخصیت نے حضرت اقدس سے بیعت اخوت کا تعلق قائم کیا۔بھیرہ کی تاریخ احمدیت میں ڈاکٹر ایم ڈی کریم صاحب کے ذکر میں حضرت میاں محمد دین صحابی سکنہ جھاوریاں کے بارہ میں لکھا ہے کہ ڈاکٹر صاحب ان کے داماد تھے۔قیاس ہے کہ میاں محمد دین حضرت شیخ حافظ الہ دین سکنہ جھاوریاں کے بھائی ہیں۔کیونکہ نام بھی ملتا جلتا ہے۔بیعت ابتدائی زمانہ کی ہے۔نوٹ: آپ کے مزید تفصیلی حالات نہیں مل سکے۔ماخذ : (۱) ضمیمه انجام آتھم روحانی خزائن جلد ۱ (۲) تاریخ احمدیت جلد ہشتم (۳) سیرت حضرت مسیح موعود (۴) بھیرہ کی تاریخ احمدیت صفحہ ۱۲۱۔☆ ۲۷۸۔حضرت میاں عبدالسبحان۔لاہور بیعت : ۲۳ /اپریل ۱۸۸۹ء تعارف: حضرت میاں عبدالسبحان رضی اللہ عنہ جمال تھے۔آپ کے والد صاحب کا نام عبدالغفار کشمیری تھا۔بھائی دروازہ کے کشمیری خاندان سے تعلق تھا۔ہجرت کر کے قادیان آگئے۔مکانوں کی سفیدی کا کام کرتے تھے۔بیعت : آپ کی بیعت ۲۳ /۱اپریل ۱۸۸۹ء کی ہے۔رجسٹر بیعت اُولیٰ میں اندراج ۸۸ نمبر پر ہے۔آپ کی بیعت میں پیشہ ملازم ریلوے تحریر ہے۔رجسٹر روایات میں ہے ”مستری عبدالسبحان صاحب کو قاضی غلام قادر صاحب ٹیچر گورنمنٹ سکول اور ان کے بیٹے عبدالغنی صاحب نے حضرت مرزا صاحب کی بیعت کی تحریک کی۔کہنے لگے کہ میری غرض تو بیعت سے خدا تعالیٰ کو دیکھنا ہے۔انہوں نے جوابا کہا یہ تو ناممکن ہے۔اس پر مستری صاحب نے کہا کہ میں بیعت نہیں کرتا مگر ساتھ ہی تجویز پیش کی کہ ان کی طرف سے حضرت صاحب کی خدمت میں ادب سے خط لکھو کہ اس کا مطالبہ خدا کے دیدار کرنے کا ہے۔چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔حضرت مسیح موعود کی طرف سے یہ عنایت نامہ صادر ہوا کہ۔دل لگا کر نماز پڑھو اور اپنی زبان میں دعائیں مانگتے رہو یہی طریقہ ہے اللہ تعالیٰ کو دیکھنے کا اس مبارک تحریر سے ان کا دل یقین سے لبریز ہو گیا کہ یہی بیج ہے۔نوٹ: آپ کے مزید تفصیلی حالات نہیں مل سکے۔ماخذ: (۱) رجسٹر بیعت اُولیٰ مطبوعہ تاریخ احمدیت جلد اصفحہ ۳۴۷ (۲) لا ہور تاریخ احمدیت صفحه ۱۵۴