تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 302
302 ۲۷۹۔حضرت میاں شہامت خان۔نادون بیعت ۲۳ را پریل ۱۸۸۹ء۔وفات ۱۹۲۹ء تعارف: حضرت میاں شہامت خان رضی اللہ عنہ نا دون ضلع کانگڑہ کے رہنے والے تھے۔آپ کے بھائی حضرت میاں امانت خان صاحب بھی تین صد تیرہ بزرگان میں شامل ہیں جن ۱۷۵ ویں نمبر پر ذکر کیا گیا ہے۔ایک دفعہ جب حضرت میاں امانت خان حضرت اقدس سے بیعت کرنے گئے تو حضرت اقدس نے ان سے آپ کا ( یعنی میاں شہامت خاں صاحب) کی خیریت دریافت فرمائی۔بیعت کا پس منظر : حضرت ڈاکٹر نعمت خاں صاحب ولد میاں امان خاں صاحب نادون جو حضرت میاں شہامت خان صاحب کے تایا زاد بھائی تھے بیان کرتے ہیں: ( نادون میں ) ایک فقیر رہتا تھا۔جس کو سائیں قلندرشاہ کہتے تھے۔اس کے ساتھ میرے تایا زاد بھائی منشی شہامت خاں کی محبت تھی۔اس زمانہ میں منشی صاحب کو بھی ور دو ظائف کا شوق تھا اور وہ بہت سا حصہ رات کا لیکر مسجد جولب چشمہ ہے اور اب ہماری جماعت کے قبضہ میں ہے چلے جایا کرتے تھے۔یہ کوئی ۱۸۸۱ ء یا ۱۸۸۲ء کا ذکر ہے کہ ایک روز سائیں قلندر شاہ ان سے کہنے لگا۔خاں میاں مہدی پیدا ہو گیا ہے۔انہوں نے تعجب سے پوچھا۔سائیں کہاں۔کہنے لگا قادی۔انہوں نے کبھی قادی کا نام نہ سنا تھا۔وہ کہنے لگے سائیں کہاں ہے۔وہ کہنے لگا کہ پنجاب میں بٹالہ سے آگے ہے۔چنانچہ ان دنوں ہم چھوٹے چھوٹے تھے۔اور سکول میں پڑھا کرتے تھے۔کچھ خیال نہ کیا۔لیکن جس وقت حضرت صاحب نے دعویٰ کیا تو اس وقت ہمارے خاندان کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ماننے میں کوئی تکلیف حائل نہ ہوئی۔اور میرے دونوں تایا زاد یہاں امانت خاں اور شہامت خاں حضرت صاحب کی بیعت میں داخل ہو گئے اور ۳۱۳ صحابیوں میں ان کے نام آ گئے“ (رجسٹر روایات نمبر ۴ صفحه ۲-۳) حضرت اقدس کی بیعت: جب ۱۸۸۶ء میں براہین احمدیہ کا اشتہار شائع ہوا تو آپ نے براہین احمد یہ منگوالی اور جب بیعت کا اعلان ہوا۔تو بیعت کر لی۔وفات : حضرت میاں شہامت خان کی وفات ۱۹۲۹ ء میں ہوئی۔حضرت خلیفۃالمسیح الثانی نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی۔اولاد: آپ کے بیٹے ڈاکٹر مطلوب خاں صاحب کے بارے میں فرمایا ” ان کے بیٹے ڈاکٹر مطلوب خان صاحب کے متعلق جب کہ وہ جنگ کے دنوں میں ۱۹۲۸ء میں لڑائی پر گئے ہوئے تھے۔گورنمنٹ کی طرف سے تار آیا تھا کہ وہ مارے گئے ہیں۔لیکن مجھے خدا تعالیٰ نے بتایا تھا کہ وہ فوت نہیں ہوئے چنانچہ ایسا ہی ہوا کچھ دنوں کے بعد گورنمنٹ نے اطلاع دی کہ وہ زندہ اور قید میں ہیں ماخذ: (۱) تاریخ احمدیت جلد ۶ صفحه ۱۸۹ (۲) رجسٹر روایات نمبر ۴ (۳) رجسٹر روایات نمبر ۶ (۴) الفضل ۲۹ جنوری ۱۹۲۹ء