تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا

by Other Authors

Page 297 of 379

تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 297

297 ابتدائی تعلیم حضرت مولوی رحیم اللہ صاحب سے حاصل کی۔۱۸۸۶ء میں آپ گورنمنٹ سکول لاہور کی مڈل کلاس میں داخل ہوئے۔طبی تعلیم کی تکمیل کے لئے آپ نے حکیم حاذق عمدۃ الحکماء اور زبدۃ الحکماء کے امتحانات پاس کئے۔آپ حضرت حکیم محمدحسین موجد مفرح عنبری کے طور پر معروف ہیں۔حضرت اقدس کی بیعت : آپ کو براہین احمدیہ پڑھنے کا موقع ملا اور حضرت اقدس کی محبت کا جوش پیدا ہوا۔۱۴ جولائی ۱۸۹۱ء میں آپ نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کی۔رجسٹر بیعت اولی میں آپ کا نام ۱۴۳نمبر پر درج ہے۔تاریخ بیعت ۱۴ جولائی ۱۸۹۱ء کی ہے جہاں پوتا میاں چٹو ساکن لاہور تحریر ہے۔( چونکہ دادا کا رنگ بہت گورا تھا اس لئے میاں چنو یعنی چٹا مشہور تھے۔اصل نام مولوی محمد بخش صاحب تھا۔) آپ نے طب کی تعلیم حضرت خلیفہ اسیح الاوّل سے جموں سے حاصل کی۔حضرت اقدس کی کتب میں ذکر : حضرت اقدس نے آئینہ کمالات اسلام میں لنگے منڈی کے تعارف سے جلسہ سالانہ۱۸۹۲ء میں شامل ہونے والے احباب میں ذکر کیا ہے۔تحفہ قیصریہ اور کتاب البریہ میں جلسہ ڈائمنڈ جو بلی کے شرکاء اور پُر امن جماعت کے ضمن میں ذکر فرمایا ہے۔دینی خدمات آپ جماعت احمد یہ لاہور کے سرگرم رکن تھے۔جماعت احمدیہ لاہور کے جنرل سیکرٹری بھی رہے حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کے ۱۹۲۴ء میں یورپ جانے پر قائمقام امیر بھی رہے۔مسجد احمدیہ کی تعمیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔وفات : آپ کی وفات ۱۲ س ا پریل ۱۹۳۲ء کو ہوئی۔اولاد : آپ کی اولاد میں معروف قریشی محمد اسمعیل صاحب ہیں۔آپ کی بیٹی زینب حضرت اقدس کے زمانہ میں وفات پا گئی تھیں۔حضرت حکیم محمد حسین کے دادا شیخ محمد چٹو صاحب آخر اکتوبر ۱۹۰۶ء میں قادیان گئے۔حضرت حکیم صاحب اپنے ساتھ اپنے دادا کے علاوہ دو اور چکڑالویوں کو بھی لے گئے۔سید محمد یوسف بغدادی ان میں سے ایک تھے۔شیخ محمد چٹو صاحب آخری عمر میں چکڑالوی مکتب فکر کے ہو گئے۔اس نے حضرت اقدس سے آپ کے دعوئی امامت کا ثبوت قرآن سے مانگا۔حضرت اقدس نے فرمایا کہ جن دلائل سے آپ نے قرآن شریف کو سچا مانا ہے۔66 انہی دلائل کے ذریعہ سے پھر میری سچائی کو پرکھ لیں۔شیخ محمد چٹو صاحب اس دلیل کا کوئی جواب نہ دے سکے۔“ ( تاریخ احمدیت جلد ۲ صفحه ۴۷۳) ماخذ: (۱) آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ (۲) تحفہ قیصریہ روحانی خزائن ۱۲ (۳) کتاب البریہ روحانی خزائن ۱۳ (۴) رجسٹر بیعت اولی مطبوعہ تاریخ احمدیت جلدا (۵) لا ہور تاریخ احمدیت صفحه ۱۵۶ تا ۱۶۸ (۶) مکتوبات احمدیہ