تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 240
240 نوٹ: بابا محمد چٹو صاحب نے آپ کی شادی اپنی بیوہ بہو غلام فاطمہ صاحبہ سے کروا دی تھی۔محترمہ غلام فاطمہ صاحبہ حضرت اقدس کی بیعت سے مشرف ہوئی تھیں۔بڑی مخلص اور قربانی دینے والی خاتون تھیں اپنی آخر عمر تک بچوں کو قرآن مجید پڑھاتی رہیں۔ماخذ : (۱) رساله اصحاب احمد نومبر ۱۹۵۵ء (۲) تاریخ احمدیت جلد دہم ص ۶۱۵ (۳) اصحاب احمد جلد اول ص ۵۵ تا ۶۲ ☆ ۱۹۹۔حضرت مولوی عنایت اللہ مدرس- مانانوالہ بیعت: ۱۸۹۵ء وفات ۲۳ جنوری ۱۹۳۱ء حضرت مولوی عنایت اللہ صاحب کے والد کا نام محمد حسین صاحب تھا۔آپ کا اصل گاؤں چبہ سندھواں گوجرانوالہ تھا اور مانا نوالہ ضلع گوجرانوالہ میں مدرس تھے۔آپ کی بیعت ۱۸۹۵ء سے قبل کی ہے۔آپ جولائی ۱۹۰۷ ء میں نظام وصیت میں شامل ہوئے۔وفات : ۲۲ اور ۲۳ جنوری کی درمیانی رات کو چبہ سندھواں میں وفات ہوئی اگلے روز بہشتی مقبرہ قادیان میں تدفین ہوئی۔وفات کے وقت آپ کی عمر ۶۶ سال تھی۔آپ کی وفات پر مکرم قاضی فضل الہی قریشی سیکرٹری تعلیم و تربیت گوجرانوالہ نے لکھا کہ : ”مولوی عنایت اللہ صاحب ساکن چبہ سندھواں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پرانے خادم تھے اور ۳۱۳ صحابہ نہیں سے تھے۔۲۳٬۲۲ جنوری ۱۹۳۱ء کی درمیانی رات کو فوت ہو گئے۔اناللہ وانا الیہ راجعون۔“ ماخذ : (۱) نور القرآن نمبر ۲ روحانی خزائن جلد ۹ (۲) الفضل ۳ / مارچ ۱۹۳۱ صفحه ۲ (۳) فہرست موصیان ۱۹۰۵ ء تا ۲۰۰۷ء۔