تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 223
223 ☆ ۱۷۷۔حضرت میاں کرم داد معہ اہلبیت۔قادیان ولادت :۱۸۳۳ء۔بیعت : ۱۰ / جولائی ۱۸۹۲ء۔وفات فروری ۱۹۵۰ء تعارف و بیعت : حضرت میاں کرم دا درضی اللہ عنہ موضع نہنگ یا ڈھینگ ضلع گجرات کے تھے۔آپ کے والد صاحب کا نام علم دین تھا، موضع نہنگ ضلع گجرات لکھا ہے۔رجسٹر بیعت اولی میں آپ کی بیعت • ارجولائی ۱۸۹۲ء کو ۲۴۱ نمبر پر ہے۔متفرق حالات اصحاب احمد جلد ششم میں حضرت قاضی عبدالرحیم کی ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے: میاں محمد بخش عرف میاں مہندا والد میاں عبداللہ احراری جو خو جوں والی مسجد ( جو کو چہ الحکم میں واقع ہے۔مؤلف) کاملاں تھا۔قادیان میں قصائیوں کے جانور ذبح کیا کرتا تھا۔جب مرزا امام الدین صاحب فوت ہوئے تو میاں مہندا نے ان کا جنازہ پڑھایا۔اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی جماعت کیلئے یہ انتظام فرمایا کہ بجائے مہندا کے آئندہ میاں کرم داد جانور ذبح کیا کریں اور ایک قصاب کو احمد یہ چوک میں بٹھایا گیا۔جس سے میاں کرم داد کا ذبیحہ گوشت خریدا جاتا تھا۔“ اصحاب احمد جلد دہم میں ہے کہ حضرت شیخ عبدالرحیم شرما کی دوسری شادی آپ کی بیٹی محترمہ عائشہ بیگم صاحبہ سے ہوئی۔حضرت شیخ صاحب کی پہلی بیوی فوت ہو چکی تھیں۔ماخذ: (۱) ضمیمه انجام آنقم روحانی خزائن جلد ۱ (۲) رجسٹر بیعت اولی مندرجه تاریخ احمدیت جلد اصفحه ۳۶۳ (۳) اصحاب احمد جلد ششم (۴) اصحاب احمد جلد دہم۔☆ ۱۷۸۔حضرت حافظ نور احمد صاحب لو دیا نہ بیعت : ۲۳ / مارچ ۱۸۸۹ء تعارف: حضرت حافظ نور احمد رضی اللہ عنہ کے والد صاحب کا نام قادر بخش صاحب تھا۔آپ محلہ موچھ پورہ لدھیانہ کے رہنے والے تھے۔بیعت کا پس منظر : حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے ابھی کوئی دعوی نہیں کیا تھا کہ حافظ صاحب کو خواب میں