تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا

by Other Authors

Page 213 of 379

تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 213

213 تھے۔آپ کے والد کا نام میاں عبداللہ عرف میاں موجدین تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے دعوئی سے قبل جب حضرت خلیفہ اسیح الاول کی عیادت کے لئے جموں تشریف لے گئے تو خلیفہ نور دین صاحب کے مکان پر ٹھہرے تھے۔حضرت خلیفہ نوردین صاحب نے جلال پور جٹاں سے نقل مکانی کر کے جموں میں جا کر رہائش اختیار کر لی تھی۔مناظرہ دہلی کے بعد حضرت اقدس نے اپنے دوستوں کو قادیان بلایا۔حضرت خلیفتہ المسیح الاول سیالکوٹ میں ایک سرائے میں ٹھہرے ہوئے تھے وہاں خلیفہ نوردین صاحب کی آپ سے ملاقات ہوئی تو آپ بھی ساتھ ہو لئے اور قادیان پہنچ کر حضرت اقدس کی بیعت کر لی۔آپ کی بیعت ۲۷ نومبر ۱۸۹۱ء کی ہے۔آپ کو خلیفہ کا نام مہاراجہ کشمیر نے دیا۔ریاست میں اونچی اذان دینا ممنوع تھا۔ایک دفعہ جب آپ نے اونچی اذان دے دی تو مہاراجہ صاحب حضرت حکیم نورالدین صاحب ( حضرت خلیفہ اسیح الاول) کے ادب کی وجہ سے منع تو نہ کر سکے مگر کہا مولوی صاحب! آپ کا خلیفہ اونچی اونچی بانگیں دیتا ہے اس دن سے آپ خلیفہ نور دین مشہور ہو گئے۔آتھم کے مباحثہ میں آپ بھی لکھنے والوں میں سے تھے۔آخری دن جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آتھم کے متعلق پیشگوئی کا اعلان فرمایا تو آتھم نے خوف زدہ ہو کر کانوں کی طرف ہاتھ اٹھائے اور دانتوں میں انگلی لی اور کہا میں نے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دجال نہیں کہا۔انکشاف قبر مسیح: ایک دفعہ خلیفہ نوردین صاحب کشمیر میں ہیضہ کے ایام میں گشت سرکاری کی ڈیوٹی پر تھے جس محلہ میں جاتے مزاروں کے مجاوروں سے سوال کرتے اور حالات معلوم کرتے تھے۔محلہ خانیار ( سری نگر ) میں ایک مزار کے بارے میں پوچھا تو مزار پر ایک بڑھیا اور بوڑھے نے بتایا کہ یہ قبر یوز آسف شہزادہ نبی اور پیغمبر صاحب کی قبر مشہور ہے۔ایک عرصہ بعد حضرت مسیح موعود نے ایک مجلس میں فرمایا کہ و اونهما إِلَى رَبُوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَّ مَعِينٍ (المؤمنون: ۵۱) سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ واقعہ صلیب کے بعد حضرت عیسی کسی ایسے مقام کی طرف گئے جیسے کشمیر۔اس پر حضرت خلیفہ مسیح الاول نے خلیفہ نور دین کو اس کی تحقیقات کرنے کا حکم دیا تو آپ نے کشمیر میں پھر کر۔۔۔۔علماء سے دستخط کروا کر حضور کی خدمت میں پیش کئے۔جسے حضور نے بہت پسند کیا۔حضرت اقدس کی کتب میں ذکر : حضور نے آپ کا ذکر آئینہ کمالات اسلام، آسمانی فیصلہ تحفہ قیصریہ ،سراج منیر، کتاب البریه، راز حقیقت اور ملفوظات میں کیا ہے۔وفات: آپ کی وفات ۲ ستمبر ۱۹۴۲ء کو ہمر ۹۵ سال ہوئی آپ کا وصیت نمبر ۳۸۹ ہے۔آپ کی تدفین بہشتی مقبرہ قادیان میں قطعہ نمبر ۵ حصہ نمبر ۳ میں ہوئی۔اولاد: آپ کے اولاد نہیں ہوتی تھی۔خلیفہ صاحب نے چار شادیاں کی تھیں۔ان کی بیٹی کی شادی ماسٹر عبدالرحمن صاحب ( سابق مہر سنگھ ) سے ہوئی تھی۔ان کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاں خدمت کی توفیق ملی۔انہوں نے