تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا

by Other Authors

Page 189 of 379

تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 189

189 ☆ ۱۳۷۔حضرت مولوی سید محمد فضل حسین صاحب اکسٹرا اسٹنٹ علی گڑھ ضلع فرخ آباد بیعت: ۷/اپریل ۱۸۸۹ء تعارف: حضرت مولوی سید تفضل حسین رضی اللہ عنہ کا اصل وطن اٹا وہ تھا۔آپ کے والد ایک بزرگ عارف باللہ مولوی الطاف حسین مرحوم کے خلف الرشید تھے۔آپ فطر تا صالحیت اپنے اندر رکھتے تھے۔حضرت اقدس سے تعلق عقیدت : جس زمانہ میں آپ تحصیلدار تھے تو آپ کو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب ”براہینِ احمدیہ کے ساتھ خاص عقیدت تھی۔وہ کئی مرتبہ حضرت اقدس کی خدمت میں علی گڑھ تشریف لانے کی درخواست کر چکے تھے۔جسے حضور نے قبول فرمایا۔بیعت : حضرت اقدس اپریل ۱۸۸۹ء میں لدھیانہ سے علی گڑھ تشریف لے گئے۔اس سفر میں حضور کے ہمراہ آپ کے خدام میں حضرت مولوی عبد اللہ سنوریؒ اور حضرت حافظ حامد علی بھی تھے۔حضرت اقدس سید محمد تفضل حسین صاحب ( تحصیلدار) کے ہاں ٹھہرے۔جو ان دنوں دفتر ضلع میں سپرنٹنڈنٹ تھے۔بیعت : حضرت مولوی صاحب نے کے راپریل ۱۸۸۹ء کو بیعت کی۔آپ کی بیعت ۷۸ نمبر پر درج ہے۔حضرت اقدس کی کتب میں ذکر : ازالہ اوہام میں خلصین اور کتاب البریہ میں پر امن جماعت میں آپ کا ذکر ہے۔رسالہ نورالدین میں آپ کا ذکر : آپ کے بارہ میں حضرت خلیفتہ المسیح الاول تحریر کرتے ہیں : ”ہمارے مکرم معظم دوست سید تفضل حسین ڈپٹی کلکٹر جب آخر کے اوراق چھپ رہے تھے قادیان تشریف لائے اور اس رسالہ نورالدین کو پڑھا اور فرمایا کہ سوال نمبر ۲۸ کا جواب ادھورا رہ گیا۔میں نے عرض کیا کہ ہر ایک پہلو پر گفتگو کرنا اور اس میں توسیع اس رسالہ کی شان نہیں الْيَومَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دَيْنَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ کی صدا کے لئے انسان کامل چاہئیے مگر ان کی خاطر ایک طرف دیباچہ کا آخری صفحہ خالی نظر آیا۔ایک طرف اس واسطے یہ چند سطور گزارش ہیں۔“ رسالہ نورالدین بجواب ترک اسلام صفحه ۶۲) حضرت مولانا جلال الدین شمس صاحب نے حضرت اقدس کے معاصر علماء میں آپ کا ذکر کیا ہے جنہوں نے حضرت اقدس کی بیعت کی۔ماخذ: (۱) ازالہ اوہام صفحه ۵۴۳ (۲) کتاب البریہ روحانی خزائن جلد ۱۳ (۳) رساله نورالدین بجواب ترک اسلام صفحه ۶۲ (۴) مضمون ” براہین احمدیہ کے مطالعہ سے روزنامہ الفضل ۲۴ / اپریل ۲۰۰۲ صفحه ۴ (۵) رجسٹر بیعت اولی تاریخ احمدیت جلد اول صفحه ۳۴۷۔(۶) صداقت حضرت مسیح موعود تقریر جلسہ سالانہ ۱۹۶۴ء۔