تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا

by Other Authors

Page 129 of 379

تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 129

129 رضا مند ہوئے۔حضرت اقدس نے ہدایت فرمائی کہ شیخ مسیح اللہ خانساماں ان کے حسب منشاء کھانا تیار کریں اور انہیں گول کمرہ میں ٹھہرایا جائے۔وفات : آپ قادیان میں ہجرت کے دن گزار رہے تھے کہ واپسی کا پیغام آ گیا اور آپ ۶ نومبر ۱۹۰۶ء کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی ہی میں عالم آخرت کو سدھار گئے۔آپ کی وفات پر اخبار البدر نے یہ خبر شائع کی۔شیخ مسیح اللہ صاحب ساکن شاہجہانپور ۶ نومبر ۱۹۰۶ء کی صبح کو ستر اسی (سال) کی عمر میں فوت ہوئے انا اللہ وانا اليه راجعون - شیخ صاحب مرحوم مدت تک انگریزوں کی خانسامہ گیری کرنے کے بعد بالآ خر قادیان میں آکر بیٹھ گئے تھے۔چند سال مدرسہ تعلیم الاسلام کے بورڈنگ میں ملازم رہے اور آج کل گوشت روٹی کی دوکان کرتے تھے۔آپ کو مقبرہ بہشتی میں دفن کیا گیا اللہ تعالی مغفرت کرے۔شیخ صاحب ایک چھوٹا سا بچہ یتیم چھوڑ گئے جو مدرسے سے وظیفہ پاتا ہے۔“ ماخذ : (۱) تبلیغ رسالت جلد ہفتم (۲) آریہ دھرم روحانی خزائن جلد ۳۱۰) کتاب البریہ روحانی خزائن جلد ۱۳ (۴) سراج منیر روحانی خزائن جلد ۱۲ (۵) البدر ۱۸ نومبر ۱۹۰۱ء (۶) ریویو آف ریلیجنز ۱۹۰۳ء جلد نمبر ۱۱ ۱۲ (۷) اخبار الحکم ۳۰ را پریل ۱۹۰۵ء (۸) اخبار البدر / نومبر ۱۹۰۶ء (۹) ذکر حبیب۔تین سو تیرہ تین سو تیرہ وہ رکھتے تھے مثالی زندگی اُن میں سے ہر ایک تھا عشق و محبت کا رُباب دیکھ نور الدین کو اور دیکھ تو عبدالکریم دوسرا ہے گر ستارہ، تو ہے پہلا ماہتاب باغ احمد کے عنادِل آئے نزد و دُور سے افتخار از لدھیانه، دتی سے ناصر نواب شیخ نوراحمد از امرتسر تھا دیوانہ اگر تھا جالندھر کا بھی گوہر دل میں رکھتا اضطراب سُرخ چھینٹوں کا جو گذرا تھا انوکھا ماجرا عینی شاہد تھا سنور کی برآں کشف لاجواب مولوی بُرہان از جہلم تھا پروانہ اگر تو خوشابی مولوی تھا عشق احمد میں کباب وہ ریکس کوٹلہ، وہ حق تعالیٰ کی دلیل حضرت صادق ز بھیرہ اک مہکتا سا گلاب ( مکرم عبد السلام اسلام)