تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 105
105 عربی حصہ کا رد لکھنے پر ایک ہزار روپیہ دینے کا وعدہ کیا۔اس وقت حضرت مولانا عبدالکریم سیالکوئی بھی وہاں موجود تھے جن سے حضرت مولوی محمد سعید صاحب نے حضرت اقدس کے بارے میں تعارف حاصل کیا اور قادیان حاضر ہو گئے۔قادیان میں قیام اور بیعت : آپ تقریباً سات ماہ تک تحقیق میں مصروف رہے۔حضرت اقدس کو نہایت قریب سے دیکھا اور حضور کے علمی فیضان سے متمتع ہوئے اور بالآخر بعض مبشر رویا کی بناء پر سلسلہ عالیہ احمدیہ میں داخل ہو گئے۔حضرت مفتی محمد صادق صاحب لکھتے ہیں : غالبا ۱۸۹۴ء کے قریب دو عرب شامی جو علوم عربیہ کے ماہر اور فاضل تھے قادیان آئے ایک عرصہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صحبت میں رہے ہر دو کا نام محمد سعید تھا اور طرابلس علاقہ شام کے رہنے والے تھے اُن میں سے ایک صاحب شاعر بھی تھے۔مالیر کوٹلہ میں ایک ہندوستانی لڑکی سے حضرت نواب محمد علی نے شادی کروادی۔۔۔۔دوسرے محمد سعید نے ایک رسالہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تائید میں تصنیف کیا تھا اور وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک تحریر جو بصورت رسالہ چھپی تھی لے کر اپنے وطن ملک شام سلسلہ حقہ کی تبلیغ کے واسطے چلے گئے۔“ (ذکر حبیب ص ۴۲) دینی خدمات: مولوی محمد سعید صاحب شامی طرابلسی نے دو کتابیں تصنیف کیں۔ایک ”الانصاف بین الاحباء “ اور دوسری ایقاظ الناس‘ ہے۔تذکرہ واقعات آپ نے اپنی کتاب ”ایقاظ الناس میں حضرت اقدس کی تین ایمان افروز کرامات کا ذکر کیا ہے۔(1) ماحول مکہ شریف کا ایک عرب پنجاب آیا جو حضرت اقدس کے خلاف الزام طرازی کرتا تھا لیکن جب قادیان آیا تو بیعت کر لی۔جب اس سے اس وابستگی کا سبب پوچھا گیا تو اس نے بتایا کہ عالم رویا میں حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی اور حضرت اقدس کے متعلق ارشاد فرمایا کہ وہ اپنے دعوی میں صادق ہیں جاؤ اور جا کر بیعت کر لو“ (۲) مولوی صاحب ایک دفعہ اپنے حجرہ میں بیٹھے تھے کہ دھوبی آپ کے دُھلے ہوئے کپڑے لایا۔آپ کے دل میں خیال گزرا کہ اگر حضرت اقدس اس وقت موجود ہوتے تو اسے اجرت دے دیتے۔عین اسی لمحہ جب مولوی صاحب یہ بات سوچ رہے تھے کہ یکا یک حضور رونق افروز ہوئے اور دست مبارک سے دھوبی کو اس کی مطلوبہ رقم مرحمت فرما دی۔(۳) ایک امر شرعی نے آپ کو سخت مشکل میں ڈال رکھا تھا اور اس بارے میں اکثر احباب تشفی کرانے سے قاصر تھے۔مولوی صاحب کا خیال تھا کہ حضرت اقدس نماز ظہر کے لئے تشریف لائیں گے تو آپ سے دریافت کروں گا۔آپ نے ظہر کی نماز میں آتے ہی فرمایا کہ جس مسئلہ نے آپ کو اور دیگر حضرات کو الجھن میں مبتلا کر رکھا ہے اس کا حل یہ ہے حالانکہ آپ سے اس بارہ میں قطعا کوئی ذکر نہیں کیا گیا تھا۔ماخذ : (۱) عالم روحانی کے لعل و جواہر نمبر ۱۶۷، از روزنامه الفضل ربوہ ۲۱ جولائی ۲۰۰۱ء(۲) ذکر حبیب صفحہ ۴۲۔