تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا

by Other Authors

Page 104 of 379

تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 104

104 ☆ ۵۴۔حضرت میاں عبد العزیز صاحب۔۔۔۔۔دہلی بیعت ۱۸۹۱ء تعارف: حضرت میاں عبد العزیز رضی اللہ عنہ کا دہلی میں علمی حلقہ خاصا مشہور تھا۔مرزا حیرت دہلوی سے دوستی تھی۔بیعت : ستمبر ۱۸۹۱ء میں جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام دہلی تشریف لائے تو آپ بھی جاں نثاروں میں شامل ہو گئے۔آپ کو قادیان میں حضرت اقدس کی خدمت میں حاضر ہونے کا بار ہا موقع ملا۔دینی خدمات : آپ نے صداقت احمدیت اور معترضین کے جواب میں چند ایک کتابیں لکھیں۔مثلا "حیرت کی حیرانی ( دوحصے) جس میں مرزا حیرت دہلوی کے اعتراضات کا جواب دیا۔حضرت اقدس کی کتب میں ذکر : حضرت اقدس نے آئینہ کمالات اسلام میں جلسہ سالانہ ۱۸۹۲ء تحفہ قیصریہ و کتاب البریہ جلسہ ڈائمنڈ جوبلی اور چندہ دہندگان اور پُر امن جماعت میں آپ کا ذکر فرمایا ہے۔نوٹ: آپ کے تفصیلی سوانح حالات نہیں مل سکے۔ماخذ : (۱) آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ (۲) تحفہ قیصریہ روحانی خزائن جلد۱۲ (۳) کتاب البریہ روحانی خزائن جلد ۱۳ (۴) روزنامه الفضل ربوہ ۲۳ / جولائی ۱۹۹۸ء۔☆ ۵۵۔حضرت مولوی محمد سعید صاحب شامی طرابلسی بیعت: ابتدائی زمانہ میں تعارف: حضرت مولوی محمد سعید رضی اللہ عنہ نہایت درجہ بزرگ اور نابغہ روزگار عالم تھے۔اور فخر الشعراء اور مجد الادباء کے نام سے یاد کئے جاتے تھے۔طرابلس (شام) بیروت سے تمیں کوس کے فاصلے پر ہے۔حضرت مولوی صاحب طرابلس سے براستہ کراچی، کرنال گئے۔وہاں سے دہلی بغرض علاج حکیم اجمل خان دہلوی کے پاس گئے اور دہلی کے مشہور مدرسہ فتح پوری میں علوم عربیہ کی تدریس کے فرائض بجالاتے رہے۔حضرت اقدس سے تعلق : انہیں ڈیرہ دون میں حضرت حافظ محمد یعقوب نے آئینہ کمالات اسلام میں مندرجہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں نعتیہ قصیدہ سے تعارف کروایا جسے پڑھ کر آپ بے ساختہ پکار اٹھے کہ عرب بھی اس سے بہتر کلام نہیں لا سکتے۔ازاں بعد آپ کو سیالکوٹ جانے کا اتفاق ہوا جہاں حضرت میر حسام الدین نے انہیں آئینہ کمالات اسلام کے