تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 77
77 المزاج تھے اپنے نام کے ساتھ مسکین لکھتے تھے۔آپ کی وفات مورخہ ۵ رمئی ۱۹۰۴ء کو ہوئی تو حضرت اقدس مسیح موعود وو وہ بیچارہ فوت ہو گیا ہے“ کو الہاماً بتایا گیا۔گویا اللہ تعالیٰ نے مسکین کے بالمقابل مترادف بیچارہ “ کا لفظ استعمال فرمایا۔قادیان میں آمد: حضرت اقدس کی تاکید پر قادیان ہجرت کر کے آگئے۔آپ جلد بندی کا کام کرتے تھے۔چونکہ آپ کے والد کا نام بھی غلام احمد تھا اس لئے اس بات پر فخر کرتے تھے کہ میرے جسمانی باپ کا نام بھی غلام احمد ہے اور روحانی باپ کا نام بھی غلام احمد ہے۔حضرت اقدس کی کتب میں ذکر: آئینہ کمالات اسلام میں جلسہ سالانہ۱۸۹۲ء اور چندہ دہندگان میں اور سراج منیر میں چندہ مہمانخانہ دینے والوں میں ذکر ہے۔حضرت اقدس نے نزول امیج میں مندرجہ پیشگوئیوں نمبر ۴۹ اور ۱۵۰ میں اُن کے مصدق کے طور پر ذکر فرمایا ہے۔نور القرآن نمبر ۲ میں امام کامل کی خدمت میں رہنے والوں میں آپ کا ذکر ہے۔حضرت عبداللہ صاحب مرحوم غزنوی کا ایک کشف مولوی محمد حسین بطالوی کی نسبت حضرت قاضی ضیاءالدین کی شہادت سے رسالہ نور القرآن ۲ میں درج ہے۔می بینم کہ محمدحسین پیرا ہے کلاں پوشیده است را کن (روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۴۵۷ ) پاره پاره شده است وفات : ۵رمئی ۱۹۰۴ء کو وفات پائی۔اور قادیان میں آپ کی تدفین ہوئی۔( روڑی والا ) قبرستان نز د دفتر جلسہ سالانہ قادیان میں آپ کا مزار ہے۔حضرت اقدس نے گورداسپور سے واپسی پر آپ کا جنازہ پڑھایا اور بہت لمبی دعا کی حضرت اقدس نے فرمایا کہ بہت عمدہ آدمی تھے قریباً ۲۰ سال سے محبت رکھتے تھے بعد ازاں حضرت مولوی عبدالکریم سیالکوٹی نے چند آدمیوں کو مخاطب کر کے فرمایا ” پرانے آدمیوں کی ایسی ہی قدر ہوتی ہے حضرت مولانا جلال الدین شمس صاحب نے تقریر جلسہ سالانہ ۱۹۶۴ء میں آپ کا نام معاصر علماء میں شامل کیا ہے جنہوں نے حضرت اقدس کی بیعت کی تھی۔اولاد: آپ کے بیٹے حضرت قاضی عبدالرحیم صاحب اور حضرت قاضی محمد عبداللہ صاحب سابق مبلغ انگلستان تھے۔(صحابه ۳۱۳ میں سب سے آخر میں سال ۱۹۷۳ء میں حضرت قاضی محمد عبد اللہ صاحب کی وفات ہوئی۔) حضرت قاضی ضیاء الدین صاحب نے اپنی اولاد کو وصیت کرتے ہوئے فرمایا کہ میں بڑی مشکل سے تمہیں حضرت مسیح موعود کے در پر لے آیا ہوں اب میرے بعد اس دروازہ کو کبھی نہ چھوڑنا۔چنانچہ آپ کی اولاد نے اس پر کامل طور پر عمل کیا۔حضرت قاضی عبدالرحیم صاحب کے ایک بیٹے قاضی عبد السلام صاحب بھٹی نیروبی ( مشرقی افریقہ ) رہے جن کے داماد مکرم مولانا عطاءالکریم شاہد مربی سلسلہ احمد یہ ہیں۔