اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 65
اصحاب بدر جلد 5 65 کے مسئلے کی وجہ سے تھاور نہ وہ خود بھی رسول اللہ صلی علیہم کی پیشگوئی کو پورا ہوتے دیکھنے کا خواہش مند تھا۔سراقہ نے وہ کنگن اپنے ہاتھ میں پہن لئے اور مسلمانوں نے اس عظیم الشان پیشگوئی کو پورا ہوتے ہوئے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔170 بعض کتب کے مطابق سُراقہ بن مالک کو کسریٰ کے کنگن پہنائے جانے والے الفاظ آپ نے ہجرت کے موقع پر نہیں فرمائے تھے بلکہ جس وقت نبی کریم صلی للی امام حسین اور طائف سے واپس تشریف لا رہے تھے تو جغرانہ کے مقام پر فرمائے۔171 لیکن عموماً روایت یہی ہے جو پہلے بیان ہو چکا ہے کہ ہجرت کے موقع پر ہی کہا تھا جیسا کہ حضرت مصلح موعودؓ نے لکھا ہے۔بعض صحابہ نما بیمار ہونا اور مکہ کی یاد جب عامر بن فهيدہ ہجرت کر کے مدینہ آئے تو وہاں آکر بیمار ہو گئے۔رسول اللہ صلی الیم نے دعا کی تو آپ تندرست ہو گئے تھے۔حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی الی کم مدینہ ہجرت کر کے آئے تو آپ کے بعض صحابہ بیمار ہو گئے۔حضرت ابو بکر، حضرت عامر بن فهيده ، حضرت بلال بھی بیمار ہو گئے۔حضرت عائشہ نے رسول اللہ صلی العلیم سے ان کی عیادت کی اجازت مانگی تو آپ نے ان کو اجازت عطا فرما دی۔حضرت عائشہ نے حضرت ابو بکر سے پوچھا کہ آپ کا کیا حال ہے تو انہوں نے جواب میں یہ شعر پڑھا: كُلِّ امْرِءٍ مُصَبَحْ فِي أَهْلِهِ وَالْمَوْتُ أَدْنَى مِنْ شِرَاكِ نَعْلِهِ کہ ہر شخص جب اپنے گھر میں صبح کو اٹھتا ہے تو اسے صبح بخیر کہا جاتا ہے بحالیکہ موت اس کی جوتی کے تسمے سے بھی نزدیک تر ہوتی ہے۔یعنی کہ جب وہ سو کر اٹھتا ہے تو ایسی حالت میں ہوتا ہے کہ موت تو ایک دن آنی ہی آتی ہے۔پھر آپ نے حضرت عامر بن فہیرہ سے ان کا حال دریافت کیا تو انہوں نے یہ شعر پڑھا کہ: إِنَّ الْجَبَانَ حَتْفُهُ مِن فَوْقِهِ کہ یقینا میں نے موت کو اس کا ذائقہ چکھنے سے قبل ہی پالیا ہے یقینا بز دل کی موت اچانک آجاتی ہے یعنی بہادر موت کے لئے ہر وقت تیار رہتا ہے اور بزدل نے اس کے لئے تیاری نہیں کی ہوتی۔پھر آپ نے حضرت بلال سے ان کا حال دریافت کیا تو انہوں نے یہ شعر پڑھا: يَا لَيْتَ شِعْرِى هَل أَبِيْتَنَ لَيْلَةً إِنِّي وَجَدْتُ الْمَوْتَ قَبْلَ ذَوْقِهِ بِفَجْ وَحَوْلِي اذْخِرٌ وجَلِيلُ کاش مجھے معلوم ہو کہ آیا میں کوئی رات وادی مکہ میں بسر کروں گا اور میرے ارد گرد اذخر اور جلیل" مکہ کے گھاس " ہوں۔