اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 46
اصحاب بدر جلد 5 46 نبی کریم صلی علیکم مدینہ تشریف لائے تو آپ صلی غلی یم نے یہ مسجد والی جگہ عاصم بن عدی کو دینی چاہی کہ وہ اس جگہ کو اپنا گھر بنالیں (جن صحابی کا ذکر ہو رہا ہے ) لیکن عاصم بن عدی نے کہا کہ میں جگہ نہیں لوں گا۔اس لیے معذرت کی کہ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے جو نازل کرنا تھا کر دیا یعنی کہ یہ تو ایسی جگہ بنی ہے جو اللہ تعالیٰ کو اس کی عمارت وہاں پسند نہیں آئی تھی اس لیے میں نہیں چاہتا۔آپ صلی للی یم نے اسے پھر ثابت بن اقرم کو دے دیا کیونکہ ان کے پاس کوئی گھر نہیں ہے۔ہاں عاصم بن عدی نے کہا کہ میرے پاس گھر بھی ہے اور مجھے انقباض بھی ہو رہا ہے۔معذرت چاہتا ہوں۔بہتر یہ ہے کہ اسے ثابت بن اقرم کو دے دیں اور وجہ یہ ہے کہ ان کے پاس گھر نہیں۔وہ یہاں اپنا گھر بنا لیں گے۔پس رسول کریم صل اللہ ہم نے وہ مسجد ، مسجد ضرار والی وہ جگہ جو کبھی ثابت بن اقرم کو دے دی۔ابن اسحاق کے مطابق مسجد ضرار بنانے والے منافقین کے نام یہ ہیں۔خذام بن خالد ، معتب بن قشير ، ابوحبيبة بن أزعر، عباد بن حنیف، جاریہ بن عامر اور اس کے دونوں بیٹے مجمع بن جاریہ اور زید بن جاریہ ، نفیل بن حرث ، تخرج بن عثمان ، ودیعہ۔تو بہر حال یہ لوگ تھے جو ابو عامر رہب جس کا نام رسول اللہ صلی العلیم نے فاسق رکھا تھا اس کے ساتھ یہ سب ملے ہوئے تھے۔9 ، 129 حضرت مسیح موعود اور جامع مسجد دہلی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی ایک دفعہ دہلی کے سفر پر جب گئے تو دہلی کی جامع مسجد کو دیکھ کر فرمایا بڑی خوبصورت مسجد ہے لیکن فرمایا کہ "مسجدوں کی اصل زینت عمارتوں کے ساتھ نہیں ہے بلکہ ان نمازیوں کے ساتھ ہے جو اخلاص کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں۔" فرمایا کہ " ور نہ یہ سب مساجد ویران پڑی ہوئی ہیں۔" اس زمانے میں بہت ساری مساجد تھیں، ویران تھیں۔" رسول کریم ملی ایم کی مسجد چھوٹی سی تھی۔" آپ نے فرمایا " کھجور کی چھڑیوں سے اس کی چھت بنائی گئی " شروع میں " اور بارش کے وقت مسجد کی) چھت میں سے پانی ٹپکتا تھا۔" فرمایا کہ " مسجد کی رونق نمازیوں کے ساتھ ہے۔آنحضرت صلی علیہم کے وقت میں دنیا داروں نے ایک مسجد بنوائی تھی۔وہ خدا تعالیٰ کے حکم سے گرا دی گئی۔اس مسجد کا نام مسجد ضرار تھا۔یعنی ضرر رساں۔اس مسجد کی زمین خاک کے ساتھ ملا دی گئی تھی۔مسجدوں کے واسطے حکم ہے۔" آپ نے فرمایا کہ مسجدوں کے واسطے یہ حکم ہے " کہ تقویٰ کے واسطے بنائی جائیں۔"130 پس یہ ہے مسجد کی اصل حقیقت۔آج کل مسلمانوں کے ایک طبقے کا مسجدوں کی آبادی کی طرف بھی رجحان ہوا ہے اور عجیب بات یہ ہے کہ یہ رجحان بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کے بعد ہوا ہے۔اگر کچھ موقع پیدا ہوا، جرآت پیدا ہوئی یا عبادت کی طرف توجہ ہوئی یا ظاہری عبادت کی طرف توجہ ہوئی تو یہ بھی آپ کے دعوے کے بعد ہی ہے۔لیکن اس کے باوجود بڑی توجہ سے مسجدیں بناتے ہیں اور مسجد میں بھی بڑی خوبصورت بناتے ہیں اور آج کل خاص طور پر پاکستان وغیرہ میں ان کی آبادی کی طرف بھی بعض لوگوں نے توجہ کی ہے لیکن یہ تقویٰ سے خالی مسجدیں ہیں۔اللہ تعالیٰ نے مسجد