اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 481 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 481

اصحاب بدر جلد 5 481 رہے۔جب حرام بن ملحمان آنحضرت صلی علیم کے اینچی کے طور پر عامر بن طفیل اور ان کے ساتھیوں کے پاس پہنچے تو انہوں نے شروع میں تو منافقانہ طور پر بڑی آؤ بھگت کی لیکن جب وہ مطمئن ہو کر بیٹھ گئے اور اسلام کا پیغام پہنچانے اور اسلام کی تبلیغ کرنے لگے تو ان میں سے بعض شریروں نے کسی آدمی کو اشارہ کیا اور اس نے اس بے گناہ ایچی کو پیچھے کی طرف سے نیزے کا وار کر کے وہیں ڈھیر کر دیا۔اس وقت جب حرام بن ملحان زخمی ہوئے تو ان کی زبان پر الفاظ تھے کہ اللہ اکبر فُرْتُ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ۔كم الله اكبر رب کعبہ کی قسم ! کہ میں اپنی مراد کو پہنچ گیا۔عامر بن طفیل نے آنحضرت صلی اللہ علم کے اینچی کے قتل پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ اس کے بعد اپنے قبیلہ بنو عامر کے لوگوں کو اکسایا کہ وہ مسلمانوں کی بقیہ جماعت پر حملہ کریں مگر انہوں نے اس بات سے انکار کیا اور کہا کہ ہم ابو براء کی ذمہ داری کے ہوتے ہوئے مسلمانوں پر حملہ نہیں کریں گے اس پر عامر نے قبیلہ بنو سُلیم میں سے بَنُورِ غل اور ذکوان اور خصیہ وغیرہ کو (یعنی وہی لوگ جو بخاری کی حدیث کے مطابق آنحضرت صلی تعلیم کے پاس وفد بن کر آئے تھے کہ ہمیں کچھ لوگ بھیجیں جو ہمیں تبلیغ کریں) اپنے ساتھ لیا اور یہ سب لوگ مسلمانوں کی اس قلیل اور بے بس جماعت پر حملہ آور ہو گئے۔مسلمانوں نے جب ان وحشی درندوں کو اپنی طرف آتے دیکھا تو ان سے کہا کہ ہمیں تم سے کوئی تعرض نہیں ہے۔ہم کوئی لڑائی کرنے نہیں آئے۔ہم تو رسول اللہ صلی اللی کم کی طرف سے ایک کام کے لئے آئے ہیں اور ہم تم سے لڑنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔مگر انہوں نے ایک نہ سنی اور سب کو تلوار کے گھاٹ اتار دیا۔ان صحابیوں میں سے جو اس وقت موجود تھے صرف ایک شخص بچا جو پاؤں سے لنگڑاتھا اور پہاڑی کے اوپر چڑھ گیا ہوا تھا۔ان صحابی کا نام کعب بن زید تھا۔( ان کا ذکر ہو چکا ہے) بعض اور روایات سے پتہ لگتا ہے کہ کفار نے اس پر بھی حملہ کیا تھا جس سے وہ زخمی ہوئے تھے اور کفار انہیں مردہ سمجھ کر چھوڑ گئے تھے مگر اصل میں ان میں جان باقی تھی اور وہ بعد میں بچ گئے۔صحابہ کی اس جماعت میں سے دو شخص یعنی عمر و بن امیه شهری اور مُنذر بن محمد اس وقت اونٹوں وغیرہ کے چرانے کے لئے اپنی جماعت سے الگ ہو کر ادھر اُدھر گئے ہوئے تھے۔انہوں نے ڈور سے اپنے ڈیرے کی طرف نظر ڈالی تو انہوں نے دیکھا کہ پرندوں کے جھنڈ کے جھنڈ ہوا میں اڑتے پھر رہے ہیں۔وہ اس صحرائی اشارے کو خوب سمجھتے تھے۔(جب ریت میں پرندے اس طرح جھنڈ کے جھنڈ پھر رہے ہوں تو مطلب ہوتا ہے کہ نیچے ان کے لئے کھانے کا کوئی انتظام ہے ) وہ فوراً سمجھ گئے کہ کوئی لڑائی ہوئی ہے۔واپس آئے اور دیکھا تو ظالم کفار کے کشت و خون کا کارنامہ آنکھوں کے سامنے تھا۔دور سے ہی یہ نظارہ دیکھ کر انہوں نے فوراً آپس میں مشورہ کیا کہ اب ہمیں کیا کرنا چاہئے۔ایک نے کہا کہ ہمیں یہاں سے فوراً نکل جانا چاہئے اور مدینہ پہنچ کر آنحضرت صلی علیہ ہم کو اطلاع دینی چاہئے۔مگر دوسرے نے اس رائے کو قبول نہ کیا اور کہا کہ میں تو اس جگہ سے بھاگ کر نہیں جاؤں گا۔جہاں ہمارا امیر منذر بن عمر و شہید ہوا ہے وہیں ہم لڑیں گے۔چنانچہ وہ بھی آگے بڑھے اور لڑ کر شہید ہوئے۔1119 یعنی منذر بن محمد جو اونٹ چرانے گئے ہوئے تھے جب وہ آئے تو انہوں نے بھی دشمنوں کا مقابلہ