اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 468
اصحاب بدر جلد 5 468 طرح نہیں ہیں کہ آپ کو یہ جواب دیں کہ جاتو اور تیر اخدا جا کر لڑو ہم یہیں بیٹھے ہیں بلکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ آپ جہاں بھی چاہتے ہیں چلیں ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ہم آپ کے دائیں اور بائیں اور آگے اور پیچھے ہو کر لڑیں گے۔آپ نے یہ تقریر سنی تو آپ کا چہرہ مبارک خوشی سے تمتمانے لگا مگر اس موقع پر بھی آپ انصار کے جواب کے منتظر تھے اور چاہتے تھے کہ وہ بھی کچھ بولیں کیونکہ آپ کو یہ خیال تھا کہ شاید انصاریہ سمجھتے ہوں کہ بیعت عقبہ کے ماتحت ہمارا فرض صرف اس قدر ہے کہ اگر عین مدینہ پر کوئی حملہ ہو تو اس کا دفاع کریں۔چنانچہ باوجود اس قسم کی جاں نثارانہ تقریروں کے جو مہاجر صحابہ نے کیں آپ یہی فرماتے گئے کہ اچھا پھر مجھے مشورہ دو کہ کیا کیا جاوے۔سعد بن معاذ جو اوس قبیلے کے رئیس تھے انہوں نے آپ کے منشا کو سمجھا اور انصار کی طرف سے عرض کیا کہ یارسول اللہ ! شاید آپ ہماری رائے پوچھتے ہیں۔خدا کی قسم اجب ہم آپ کو سچا سمجھ کر آپ پر ایمان لے آئے ہیں تو ہم نے اپنا ہاتھ آپ کے ہاتھ میں ہاتھ دے دیا ہے تو پھر اب آپ جہاں چاہیں چلیں ہم آپ کے ساتھ ہیں اور اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے اگر آپ ہمیں سمندر میں کو د جانے کو کہیں تو ہم کو دجائیں گے اور ہم میں سے ایک فرد بھی پیچھے نہیں رہے گا اور آپ ان شاء اللہ ہم کو لڑائی میں صابر پائیں گے اور ہم سے وہ بات دیکھیں گے جو آپ کی آنکھوں کو ٹھنڈا کرے گی۔آپ صلی الی یکم نے یہ تقریر سنی تو بہت خوش ہوئے اور فرمایا۔سِيرُوا وَابْشِرُوا فَإِنَّ اللهَ قَد وَعَدَنِي إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ وَاللهِ لَكَانِ أَنْظُرُ إِلَى مَصَارِعِ الْقَوْمِ یعنی تو پھر اللہ کا نام لے کر آگے بڑھو اور خوش ہو کیونکہ اللہ نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے کہ کفار کے ان دو گروہوں یعنی لشکر یا قافلہ جو ہے ان میں سے کسی ایک گروہ پر وہ ہم کو ضرور غلبہ دے گا اور خدا کی قسم ! میں گویا اس وقت وہ جگہیں دیکھ رہا ہوں جہاں دشمن کے آدمی قتل ہو ہو کر گریں گے۔1079 جنگ بدر میں کتنے گھوڑے تھے پھر حضرت مقداد کے بارے میں ایک یہ بھی آتا ہے کہ غزوہ بدر میں اللہ کی راہ میں قتال کرنے والے پہلے گھڑ سوار ہونے کا شرف آپ کو حاصل ہوا۔ان کے گھوڑے کا نام سبحہ تھا۔ایک روایت کے مطابق غزوہ بدر میں مسلمانوں کے دو گھوڑوں کا ذکر ملتا ہے۔حضرت علی کہتے ہیں کہ بدر کے دن ہمارے پاس دو گھوڑے تھے ایک حضرت زبیر بن عوام کا تھا اور دوسر ا حضرت مقداد بن اسود گا۔ابن ہشام کے مطابق غزوہ بدر کے دن مسلمانوں کے پاس تین گھوڑے تھے۔حضرت مرشد بن ابومر نڈ کے پاس گھوڑا تھا جس کا نام سبل تھا۔حضرت مقداد بن عمرو کے پاس گھوڑا تھا جس کا نام بَغزَجه تھا یا سبحہ تھا اور حضرت زبیر بن عوام کے پاس گھوڑا تھا جس کا نام یعسوب تھا۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے مختلف تاریخوں سے سیرت خاتم النبیین میں جو لکھا ہے اس 1080