اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 467 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 467

اصحاب بدر جلد 5 467 منظر کے برابر ہو۔کہتے ہیں ہوایوں کہ مقداد نبی کریم صلی علیم کے پاس آئے جبکہ آپ مشرکوں کے خلاف دعا کر رہے تھے اور کہنے لگے کہ یا رسول اللہ ! ہم اس طرح نہیں کہیں گے جس طرح موسیٰ کی قوم نے کہا تھا کہ فَاذْهَبْ اَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا وَلَكِنَّا نُقَاتِلُ عَنْ يَمِينِكَ وَعَنْ شِمَالِكَ وَبَيَنْ يَدَيْكَ وَخَلْفَكَ یعنی جاتو اور تیر ارب دونوں جا کر لڑو۔نہیں بلکہ ہم تو آپ کے دائیں بھی لڑیں گے بائیں بھی اور آگے بھی لڑیں گے اور پیچھے بھی۔میں نے نبی ملی یم کو دیکھا کہ آپ کا چہرہ چمکنے لگا اور مقداد کی اس بات نے آپ کو خوش کر دیا۔1078 ہم آپ کے دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی لڑیں گے سیرت خاتم النبیین میں جنگ بدر کے حوالے سے اس کی کچھ تفصیل اس طرح بیان ہوئی ہے کہ دشمن کی خبر پا کر جب آنحضرت صلی الی یکم ان کے ارادے جاننے کے لیے اور اگر وہ حملہ کرتے ہیں تو ان کے حملے کو روکنے کے لیے بدر کی طرف روانہ ہوئے تو روحاء کے قریب پہنچ کر آپ نے بیسیس اور عدی نامی دو صحابیوں کو دشمن کی حرکات و سکنات کا علم حاصل کرنے کے لیے بدر کی طرف روانہ فرمایا اور حکم دیا کہ وہ بہت جلد خبر لے کر واپس آئیں۔روحاء سے آگے روانہ ہو کر جب مسلمان وادی صفرا کے ایک پہلو سے گزرتے ہوئے زَفران میں پہنچے ، یہ بھی ایک جگہ کا نام ہے جو بدر سے صرف ایک منزل ورے ہے تو اطلاع موصول ہوئی کہ قافلے کی حفاظت کے لیے قریش کا ایک بڑا جرار لشکر مکہ سے آرہا ہے۔تو آنحضرت صلی اہل علم نے اس پر تمام صحابہ کو جمع کر کے انہیں اس خبر سے اطلاع دی اور پھر ان سے مشورہ پوچھا کہ اب کیا کرنا چاہیے۔بعض صحابہ نے عرض کیا کہ یارسول اللہ ! ظاہری اسباب کا خیال کرتے ہوئے تو یہی بہتر ہے کہ قافلہ سے سامنا ہو۔ہم دیکھیں کہ جو تجارتی قافلہ جارہا ہے ان کی نیت کیا ہے یاوہ کیا چاہتے ہیں ؟ کیونکہ وہ لشکر اگر جنگ کے لیے آرہا ہے تو اس کے مقابلے کے لیے ہم ابھی پوری طرح تیار نہیں ہیں۔مگر آپ نے اس رائے کو پسند نہیں فرمایا۔مدینہ سے چلتے ہوئے آنحضرت علی علیم کے اکثر صحابہ کو جو آپ کے ساتھ چلے تھے علم نہیں تھا کہ ہم جنگ کے لیے جارہے ہیں کیونکہ جنگ کی بھی صورت پیدا ہو سکتی ہے۔بلکہ ان کو یہ تھا کہ ایک قافلہ ہے اس کو دیکھتے ہیں کہ ان کی نیت کیا ہے ؟ اور پھر اگر انہوں نے کوئی حملہ کیا تو چھوٹا قافلہ ہو گا اس سے لڑلیں گے لیکن لشکر کا اور باقاعدہ جنگ کا تو مدینہ سے نکلتے ہوئے صحابہ کو خیال بھی نہیں تھا لیکن بہر حال جب آپ نے پوچھا تو بعض نے کہا کہ لشکر کا مقابلہ تو ہم کر نہیں سکتے اس لیے ہمیں نہیں کرنا چاہیے۔آپ نے اس رائے کو پسند نہیں فرمایا۔دوسری طرف اکابر صحابہ نے یہ مشورہ سنا تو اٹھ اٹھ کر جاں نثارانہ تقریریں کیں اور عرض کیا کہ ہمارے جان و مال سب خدا کے ہیں۔ہم ہر میدان میں ہر خدمت کے لیے حاضر ہیں۔چنانچہ مقداد بن اسودؓ نے جن کا دوسرا نام مقداد بن عمرو بھی تھا جو اصل نام ہے۔کہا یارسول اللہ ! ہم موسیٰ کے اصحاب کی