اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 405 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 405

405 اصحاب بدر جلد 5 مدینہ میں رہنے والے یہودی ذکر کیا کرتے تھے وہ مکہ میں پیدا ہو گیا ہے اس پر ان کے دلوں میں رسول کریم کی طرف رغبت پیدا ہو گئی اور انہوں نے دوسرے حج پر ایک وفد بنا کر آپ کی طرف بھجوایا اس وفد نے جب آپ سے تبادلہ خیالات کیا تو آپ پر ایمان لے آیا اور آپ کی بیعت کرلی۔چونکہ اس وقت مکہ میں آپ کی شدید مخالفت تھی یہ ملاقات ایک وادی میں مکہ والوں کی نظروں سے پوشیدہ ہوئی اور وہیں بیعت بھی ہوئی۔اس لیے اسے بیعت عقبہ کہتے ہیں۔" عقبہ کا مطلب ہے کہ دشوار گزار گھائی یا پہاڑی، دشوار گزار پہاڑی راستہ۔تو رسول کریم صلی علیم نے ان لوگوں کو مدینہ کے مومنوں کی تنظیم کے لیے افسر مقرر کیا اور اسلام کی اشاعت کی تاکید کی اور ان کی امداد کے لیے اپنے ایک نوجوان صحابی مُضعَب ابن عمیر کو بھجوایا تا کہ وہ وہاں کے مسلمانوں کو دین سکھائیں۔یہ لوگ جاتے ہوئے آنحضرت صلی الیکم کو یہ دعوت بھی دے گئے کہ اگر مکہ چھوڑنا پڑے تو آپ مدینہ تشریف لے چلیں۔جب یہ لوگ واپس گئے تو تھوڑے ہی عرصہ میں مدینے کے لوگوں میں اسلام پھیل گیا اور رسول کریم ملی لی ہم نے کچھ اور صحابہ کو مدینہ بھجوا دیا جن میں حضرت عمررؓ بھی تھے۔اس کے بعد ہجرت کا حکم ملنے پر آپ خود وہاں تشریف لے گئے اور آپ کے جاتے ہی بہت تھوڑے عرصہ میں وہ سب اہل مدینہ جو مشرک تھے مسلمان ہو گئے۔' 923 ہجرت مدینہ کے بعد رسول اللہ صلی ال ولم نے حضرت مصعب بن عمیر اور حضرت ابو ایوب انصاری کے درمیان مواخات قائم فرمائی۔924 غزوہ احد میں مسلمانوں کے علمبر دار حضرت مصعب بن عمیر غزوہ بدر اور احد میں شامل ہوئے۔غزوہ بدر اور احد میں مہاجرین کا بڑا جھنڈا حضرت مصعب بن عمیر کے پاس تھا۔غزوہ بدر میں مہاجرین کا بڑا جھنڈا حضرت مصعب بن عمیر کے پاس تھا جو رسول اللہ صلی علیہم نے آپ کو دیا تھا۔925 پھر دوسری روایت اس طرح ہے جو حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے سیرت خاتم النبیین میں لکھی ہے کہ غزوہ احد میں بھی مہاجرین کا جھنڈا حضرت مصعب بن عمیر کے پاس تھا۔" آپ نے لشکر اسلامی کی "، رسول کریم صلی الیم نے لشکر اسلامی کی صف بندی کی اور مختلف دستوں کے جداجدا امیر مقرر فرمائے۔اس موقعہ پر آپ کو ایہ اطلاع دی گئی کہ لشکر قریش کا جھنڈ اطلحہ کے ہاتھ میں ہو۔طلحہ اس خاندان سے تعلق رکھتا تھا جو قریش کے مورث اعلیٰ قصیٰ بن کلاب کے قائم کردہ انتظام کے ماتحت جنگوں میں قریش کی علمبر داری کا حق رکھتا تھا۔یہ معلوم کر کے " جب یہ پتا لگا تو " آپ نے فرمایا۔ہم قومی وفاداری دکھانے کے زیادہ حق دار ہیں۔چنانچہ آپ نے حضرت علی سے مہاجرین کا جھنڈا لے کر مصعب بن عمیر کے سپر د فرما دیا جو اسی خاندان کے ایک فرد تھے جس سے طلحہ تعلق رکھتا تھا۔" حضرت مصعب بن عمیر غزوہ احد میں شہید ہوئے۔غزوۂ احد کے روز حضرت مصعب بن عمیر 92611