اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 25
اصحاب بدر جلد 5 25 بیان کر رہا تھا۔حضرت سعد بن مالک یعنی حضرت سعد بن ابی وقاص نے اسے منع کیا اور فرمایا کہ میرے بھائیوں کو برابھلانہ کہو۔وہ نہ مانا۔حضرت سعد اٹھے اور انہوں نے دور کعت نماز پڑھی۔بعد اس کے دعا مانگی کہ اے اللہ ! اگر یہ باتیں جو یہ کہ رہا ہے تیری ناراضگی کا باعث ہیں تو اس پر میری آنکھوں کے سامنے کوئی بلا نازل فرما دے اور اس کو لوگوں کے لیے باعث عبرت بنادے۔پس وہ شخص نکلا تو اس کا سامنا ایک ایسے اونٹ سے ہوا جو لوگوں کو چیرتا ہوا آ رہا تھا۔اس اونٹ نے اس شخص کو ایک پتھر یلے میدان میں جا پکڑا اور اس شخص کو اپنے سینے اور زمین کے درمیان رکھا اور اسے پیس کر مار ڈالا۔راوی کہتا ہے کہ میں نے دیکھا کہ لوگ حضرت سعد کے پیچھے یہ کہتے ہوئے جارہے تھے کہ اے ابو اسحاق ! آپ کو مبارک ہو۔آپ کی دعا قبول ہو گئی۔84 خواب میں آکر کہنا کہ میری قبر دوسری جگہ ہٹادو علی بن زید اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت طلحہ کو خواب میں دیکھا جو فرماتے ہیں کہ میری قبر دوسری جگہ ہٹا دو مجھے پانی بہت تکلیف دیتا ہے۔اسی طرح پھر دوبارہ انہیں خواب میں دیکھا۔غرض متواتر تین بار دیکھا تو وہ شخص حضرت ابن عباس کے پاس آیا اور ان سے اپنی خواب بیان کی۔لوگوں نے جا کر انہیں دیکھا تو ان کا وہ حصہ جو زمین سے ملا ہوا تھا پانی کی تری سے سبز ہو گیا تھا۔پس لوگوں نے حضرت طلحہ ھو اس قبر سے نکال کر دوسری جگہ دفن کر دیا۔راوی کہتے تھے کہ گویا میں اب بھی اس کا فور کو دیکھ رہا ہوں جو ان کی دونوں آنکھوں میں لگا ہوا تھا۔اس میں بالکل تغیر نہ آیا تھا۔صرف ان کے بالوں میں کچھ فرق آگیا تھا کہ وہ اپنی جگہ سے ہٹ گئے تھے۔لوگوں نے حضرت ابوبکرہ کے گھر میں سے ایک گھر دس ہزار درہم پر خریدا اور اس میں حضرت طلحہ کو دفن کر دیا۔85 حضرت طلحہ بن عبید اللہ کو عراق کی زمینوں سے چار اور پانچ لاکھ دینار مالیت کا غلہ ہو تا تھا۔اور علاقہ سران جو جزیرہ نما عرب کے مغربی طرف شمال سے جنوب تک پھیلا ہوا پہاڑی سلسلہ ہے اس کو جبل الشراء بھی کہتے ہیں وہاں سے کم از کم دس ہزار دینار کی مالیت کا غلبہ ہو تا تھا۔ان کی دیگر ز مینوں سے بھی غلہ حاصل ہو تا تھا۔بنو ٹیم کا کوئی مفلس ایسا نہ تھا کہ انہوں نے اس کی اور اس کے عیال کی حاجت روائی نہ کی ہو۔ان کی بیواؤں کا نکاح نہ کرایا ہو۔ان کے تنگ دستوں کو خادم نہ دیا ہو یعنی خدمت کرنے کے لیے تنگ دستوں کی بھی مدد کی۔اور ان کے مقروضوں کا قرض نہ ادا کیا ہو ، سب کے قرض بھی ادا کیا کرتے تھے۔نیز ہر سال جب انہیں غلے سے آمدنی آتی تو حضرت عائشہ کو دس ہزار درہم بھیجتے۔86 حضرت معاویہ نے موسیٰ بن طلحہ سے پوچھا کہ ابو محمد یعنی حضرت طلحہ بن عبید اللہ نے کتنا مال چھوڑا؟ انہوں نے کہا کہ بائیس لاکھ درہم اور دولاکھ دینار۔ان کا سارا مال غلے سے حاصل ہو تا تھا جو کئی مختلف زمینوں سے آمد ہوتی تھی۔87 ان کی شہادت جنگ جمل میں ہوئی۔88