اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 24
اصحاب بدر جلد 5 24 حالانکہ وہ حالت احرام میں ہیں۔اعتراض کرے گا کہ سفید کی بجائے رنگین کپڑے پہنے ہوئے ہیں چاہے جس چیز میں بھی تم نے مرضی رنگا ہے۔ایک دوسری روایت میں ان الفاظ کا اضافہ ہے کہ حضرت عمرؓ نے فرما یا احرام باندھنے والے کے لیے سب سے اچھا لباس سفید ہے۔اس لیے لوگوں کو شبہ میں نہ ڈالو۔سات لاکھ درہم ایک رات میں خدا کی راہ میں تقسیم کر دئے حضرت حسنؓ سے مروی ہے کہ حضرت طلحہ بن عبید اللہ نے اپنی ایک زمین حضرت عثمان بن عفان کو سات لاکھ درہم میں فروخت کی۔حضرت عثمان نے یہ رقم ادا کر دی۔جب حضرت طلحہ یہ رقم اپنے گھر لے آئے تو انہوں نے کہا کہ اگر کسی شخص کے پاس رات بھر اس قدر رقم پڑی رہے تو کیا معلوم اس شخص کے متعلق رات کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کیا حکم نازل ہو جائے۔زندگی موت کا کچھ پتا نہیں۔چنانچہ حضرت طلحہ نے وہ رات اس طرح بسر کی کہ ان کے قاصد اس مال کو لے کر مستحقین کو دینے کے لیے مدینے کی گلیوں میں پھرتے رہے یہاں تک کہ جب صبح ہو گئی تو اس رقم میں سے ان کے پاس ایک درہم بھی نہ بچا۔81 ابن جریر روایت کرتے ہیں کہ حضرت طلحہ حضرت عثمان سے اس وقت ملے جبکہ آپے مسجد سے باہر ہے تھے۔حضرت طلحہ نے کہا کہ آپ کے پچاس ہزار درہم میرے پاس تھے وہ میں نے حاصل کر لیے ہیں۔آپ انہیں وصول کرنے کے لئے کسی شخص کو میری طرف بھیج دیں۔یعنی کسی وقت لیے تھے اب انتظام ہو گیا اب وہ وصول کر لیں۔اس پر حضرت عثمان نے ان سے فرمایا کہ آپ کی مروت کی وجہ سے وہ ہم نے آپ کو ہبہ کر دیے ہیں۔82 جنگ جمل میں شہادت حضرت طلحہ کی شہادت جنگ جمل میں ہوئی تھی۔اس بارے میں روایت ہے۔قیس بن ابو حازم سے مروی ہے کہ مروان بن حکم نے جنگ جمل کے دن حضرت طلحہ کے گھٹنے میں تیر مارا تو رگ میں سے خون بہنے لگا۔جب اسے ہاتھ سے پکڑتے تھے تو خون رک جاتا اور جب چھوڑ دیتے تو بہنے لگتا۔حضرت طلحہ نے کہا اللہ کی قسم ! اب تک ہمارے پاس ان لوگوں کے تیر نہیں آئے۔پھر کہاز خم کو چھوڑ دو کیونکہ یہ تیر اللہ نے بھیجا ہے۔حضرت طلحہ بن عبید اللہ جنگ جمل کے دن 10 جمادی الثانی 36 ہجری میں شہید کیے گئے تھے۔شہادت کے وقت ان کی عمر 64 سال تھی۔ایک روایت کے مطابق 62 سال عمر تھی۔حضرت طلحہ کی برائی کرنے والے کا عبرتناک انجام سعید بن مسیب سے مروی ہے کہ ایک شخص حضرت علی اور حضرت طلحہ اور حضرت زبیر کی برائی 83