اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 357
اصحاب بدر جلد 5 357 لگے۔آپ نے فرمایا اے سلمہ ! کیا تم سمجھتے ہو کہ تم یہ کر سکتے ہو کہ ان کے گھروں میں پہنچنے سے پہلے ان سب کو مار دو ؟ میں نے کہا ہاں اس ذات کی قسم جس نے آپ کو عزت عطا کی ہے ! آپ نے فرمایا اب وہ غطفان کی سر حد پر پہنچ گئے ہیں۔ایک دوسری روایت میں ہے کہ اس جگہ یہ الفاظ بیان ہوئے ہیں کہ جب حضرت سلمه بن انوع نے آنحضرت صلی للی نام سے مشرکین کا دوبارہ پیچھا کرنے کی اجازت طلب کی تو آپ صلی ہی ہم نے فرمایا يَا ابْنَ الْأَكْوَعِ مَلَكْتَ فَاشيخ : اے ابن آنوع ! تم نے جب غلبہ پالیا ہے تو پھر جانے دو اور در گرز سے کام لو۔اب پیچھے جانے کا ان کو قتل کرنے کا کیا فائدہ؟ تو یہ جو اسوہ ہے اس میں اک تو یہ ہے کہ یہ اکیلے جنگ کرتے رہے حضرت مخرز آئے تو ان پر انہوں نے چھپ کے حملہ کیا یا ان کو کسی طرح شہید کر دیا۔پہلی دفعہ تو ان کے گھوڑے کو پکڑ کے انہوں نے پلٹا دیا اور بچ گئے لیکن پھر حملہ ہوا اور وہ شہید ہو گئے۔ایک تو یہ حضرت مخرز کی شہادت کا واقعہ ہے۔دوسرا ان کی بہادری بھی ہے اور ان کو جنگ کے طریقے کا بھی پتا ہے۔آسوع نے ان لٹیروں سے سب مال چھینا اور پھر اہم بات یہ کہ جب مال واپس لے لیا اور پھر بھی کہا کہ میں ان کا پیچھا کر کے ان سب کو قتل کر دوں تو آپ صلی یم نے فرمایا کہ ان کو جانے دو۔جب مال واپس آگیا ہے تو چھوڑو۔تو یہ اسوہ ہے آنحضرت صلی علیم کا کیونکہ آپ کو قتل و غارت سے غرض نہیں تھی۔یہ مقصد نہیں تھا۔لٹیروں اور حملہ آوروں سے جب آپ نے واپس مال لے لیا اور سب لوگ چھوڑ کر فرار ہو گئے ، ان میں سے کچھ زخمی بھی ہو گئے تو آپ نے بھی پھر وہاں کسی قسم کی جنگ اور قتل و غارت گری نہیں کی۔ย بہر حال یہ کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی علیہ کہ جب ان سے یہ باتیں کر رہے تھے کہ ان کو چھوڑو۔وہ چلے گئے ہیں تو اب جانے دو۔اس دوران میں بنی غطفان کا ایک شخص آیا اور اس نے کہا فلاں شخص نے ان کے لیے اونٹ ذبح کیا ہے۔جب وہ ان کی جلد اتار رہے تھے تو انہوں نے ایک غبار دیکھا۔انہوں نے کہا وہ لوگ آگئے۔وہ وہاں سے بھی بھاگ گئے۔جب صبح ہوئی تو آپ صلی ایم نے فرمایا آج ہمارے بہترین شاہ سوار ابوقتادہ ہیں پیادوں میں بہترین پیادہ یعنی پیدل چلنے والوں میں، جنگ کرنے والوں میں سلمہ " ہیں۔سلمہ “ نے ان لوگوں کو مشکل میں ڈال دیا تھا۔وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی علیم نے مجھے دو حصے دیے ایک سوار کا اور ایک پیدل کا۔پھر رسول اللہ صلی علیم نے مدینہ لوٹے ہوئے مجھے عضباء اونٹنی پر اپنے پیچھے بٹھالیا۔تو کہتے ہیں کہ جب ہم جارہے تھے تو انصار کے ایک شخص نے جس سے دوڑ میں کوئی آگے نہیں بڑھ سکتا تھا اس نے کہنا شروع کر دیا کہ کوئی مدینہ تک دوڑ لگانے والا ہے۔دوڑ کا مقابلہ اب جنگوں اور دشمنوں کے تنگ کرنے کے باوجود صحابہ اپنی تفریح کے سامان بھی کرتے رہتے تھے۔ایک دوسرے کو ہلکے پھلکے چینج بھی دیتے تھے تا کہ وقت بھی گزر جائے اور دشمنوں کا جو مستقل