اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 356 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 356

356 اصحاب بدر جلد 5 ایمان رکھتا ہے اور تو جانتا ہے کہ جنت حق ہے اور آگ حق ہے یعنی جہنم حق ہے۔پس تو میرے اور شہادت کے درمیان حائل نہ ہو۔میں نے اسے چھوڑ دیا یہاں تک کہ وہ یعنی اخر ثم اور عبد الرحمن باہم بر سر پیکار ہوئے اور انہوں نے عبد الرحمن سمیت اس کے گھوڑے کو زخمی کر دیا۔اور عبد الرحمن نے ان کو یعنی اخرم کو، حضرت مخرز کو نیزہ مار کر شہید کر دیا اور ان کے گھوڑے پر سوار ہو کر اپنے لوگوں میں جانے کے لیے واپس مڑا تو پھر جو آنحضرت صلی نیم کے ساتھ لوگ آرہے تھے ان میں سے ابو قتادہ، عبد الرحمن کے پیچھے گئے اور اس کو پکڑ لیا اور نیزہ مار کر اسے قتل کر دیا جو حضرت محرز کو شہید کر کے گیا تھا۔تو یہ کہتے ہیں کہ پس اس کی قسم جس نے محمد کے چہرے کو عزت عطا کی ! میں نے دوڑتے ہوئے ان کا تعاقب جاری رکھا۔میں پھر بھی ان کے پیچھے جاتا رہا یہاں تکہ کہ میں نے محمد صلی الم کے صحابہ میں سے کسی کو اور نہ ان کے غبار کو اپنے پیچھے پایا یعنی بہت آگے نکل گیا یہاں تک کہ وہ سورج غروب ہونے سے پہلے ایک گھائی میں پہنچے جہاں پانی تھا۔اسے ذی قرد کہتے تھے۔وہ لوگ جو مال لوٹ کے لے جانے والے چور تھے وہ اس سے پانی پینا چاہتے تھے اور وہ پیاسے تھے۔پھر انہوں نے مجھے اپنے پیچھے دوڑتے ہوئے دیکھا۔میں نے ان کو وہاں سے ہٹا دیا اور وہ اس میں سے ایک قطرہ بھی نہ پی سکے۔وہ وہاں سے نکلے اور ایک گھائی کی طرف تیزی سے بڑھے۔میں بھی دوڑا۔میں ان میں سے جس شخص کو پیچھے پاتا یعنی چھپ چھپ کے پیچھے دوڑ تا رہا اور جو پیچھے رہ جاتا اس کے کندھے کی ہڈی میں تیر مارتا۔میں یہ کہا لو انا ابن الأكوع وَالْيَوْمُ يَوْمُ الرُّضّع کہ میں انوع کا بیٹا ہوں اور یہ دن کمینوں کی تباہی کا دن ہے۔کہتے ہیں کہ اس نے کہا کہ آسوع کو اس کی ماں کھوئے۔کیا صبح والا آکوع؟ یہ جو لو گوں کو زخمی کر رہے تھے تو ان میں سے ایک نے یہ کہا کہ صبح والا آكوع، جو صبح سے ہمارے پیچھے پڑا ہوا ہے ؟ میں نے کہا ہاں۔اے اپنی جان کے دشمن تیر اصبح والا آنوع۔انہوں نے دو گھوڑے گھاٹی میں پیچھے چھوڑ دیے۔میں ان دونوں کو ہانکتے ہوئے رسول اللہ صلی علی کرم کے پاس چل پڑا۔مجھے عامر ایک چھاگل میں تھوڑے سے دودھ میں ملا ہو اپانی اور ایک چھاگل میں پانی لاتے ہوئے ملے۔پھر میں نے وضو کیا اور پیا۔پھر میں رسول اللہ صلی علیکم کے پاس آیا اور آپ صلی علیہ کی اس پانی پر تھے جہاں سے میں نے ان لوگوں کو، ان لٹیروں کو صبح بھگایا تھا۔وہاں آنحضرت صلی علیہ کی اس پانی کے قریب پہنچ چکے تھے۔میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی للی یکی نے وہ اونٹ اور وہ سب چیزیں جو میں نے مشرکوں سے چھڑائی تھیں لے لیں اور حضرت بلال نے ان اونٹوں میں سے جو میں نے ان سے چھینے تھے ایک اونٹنی ذبح کی۔وہ رسول اللہ صلی علیم کے لیے کیجی اور کوہان کے گوشت سے بھون رہے تھے۔میں نے کہا یارسول اللہ ! آپ کے ساتھ جو لوگ آئے ہیں مجھے اس لشکر میں سے سو آدمی منتخب کرنے کی اجازت فرمائیں۔تو میں ان لوگوں کا پیچھا کر کے ان سب کو قتل کر دوں۔کوئی ان کے قبیلے کو خبر دینے والا بھی نہ بچے جو یہ سامان لوٹ کر لوٹے تھے، لوٹ کر لے جانے لگے تھے۔رسول اللہ صلی ال نیم کھلا کر ہنسے یہاں تک کہ آگے کی روشنی میں آپ کے دانت مبارک دکھائی دینے سة صا التربة