اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 355 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 355

355 اصحاب بدر جلد 5 مار کر زخمی کر دیتا یہاں تک کہ جب پہاڑ کا راستہ تنگ ہو گیا اور وہ اس تنگ راستے میں داخل ہوئے تو میں پہاڑ پر چڑھ گیا اور انہیں پتھر مارنے لگا۔یہ لوگ جو آنحضرت صلی علی نام کے جانور لوٹ کر لے جارہے تھے ان پر انہوں نے حملہ کیا۔اکیلے تھے۔پہلے تیر مارتے رہے پھر کہتے ہیں کہ دڑے پر پہنچا وہاں سے پتھر مارنے شروع کیے اور اسی طرح میں ان کا پیچھا کرتا رہا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی علیم کے اونٹوں میں سے کوئی اونٹ ایسا پیدا نہیں کیا جسے میں نے اپنے پیچھے نہ چھوڑ دیا ہو یعنی کہ دڑے کی وجہ سے وہ پیچھے رہ گئے اور وہ لوگ آگے دوڑ گئے اور انہوں نے ان کو میرے اور اپنے درمیان چھوڑ دیا۔پھر میں تیر اندازی کر تارہا یہاں تک کہ انہوں نے تیس سے زیادہ چادریں اور تیس نیزے یعنی اپنا وزن ہلکاہونے کے لیے پھینک دیے۔وہ لوگ دوڑ رہے تھے تو اونٹ چھوڑ دیے۔پھر اپنا سامان بھی پیچھے پھینکنا شروع کر دیا تا کہ آسانی سے دوڑ سکیں۔کہتے ہیں جو چیز بھی وہ پھینکتے جاتے تھے میں ان پر نشان کے طور پر پتھر رکھ دیتا تھا تا کہ رسول للہ صلی اللیل اور آپ کے صحابہ پہنچان لیں یہاں تک کہ وہ ایک تنگ گھاٹی میں آئے جہاں انہیں بدر فزاری کا کوئی بیٹا ملا۔وہ بیٹھ کر کھانا کھانے لگے اور میں ایک چوٹی پر بیٹھا تھا۔فزاری نے کہا یہ کون شخص ہے جسے میں دیکھ رہا ہوں ؟ انہوں نے کہا اس شخص نے تو ہمیں تنگ کر رکھا ہے۔اللہ کی قسم! یہ صبح سے ہم پر مسلسل تیراندازی کر رہا ہے یہاں تک کہ اس نے ہم سے سب کچھ چھین لیا ہے۔اس نے کہا چاہیے کہ تم میں سے چار آدمی اس کی طرف جائیں۔حضرت سلمہ بن اکوع کہتے ہیں کہ ان میں سے چار آدمی میری طرف پہاڑ پر چڑھے۔جب وہ میرے اتنے قریب آئے کہ میں ان سے بات کر سکا تو میں نے کہا کہ تم مجھے جانتے ہو ؟ انہوں نے کہا نہیں۔تم کون ہو؟ میں نے کہا میں سلمہ بن اکوع ہوں۔پھر انہوں نے آگے کافروں کو کہا کہ اس کی قسم جس نے محمدعلی تعلیم کے چہرے کو عزت عطا کی ہے کہ میں تم میں سے جس شخص کو پکڑنا چاہوں اسے پکڑ سکتا ہوں لیکن تم میں سے کوئی شخص مجھے پکڑنا تو نہیں پکڑ سکتا۔چار آدمی جو آئے تھے ان میں سے ایک ذرا ڈر گیا۔اس نے کہا کہ میرا بھی یہی خیال ہے اور وہ چاروں واپس چلے گئے اور میں اپنی جگہ پر بیٹھا رہا یہاں تک کہ میں نے رسول اللہ صلی ال نیم کے گھوڑے درختوں کے درمیان آتے ہوئے دیکھے۔ان میں سے سب سے پہلے اخرم اسدی تھے اور ان کے پیچھے ابو قتادہ انصاری تھے اور ان کے پیچھے مقداد بن اسود کندی تھے۔میں نے اخرم یعنی حضرت محرز کے گھوڑے کی لگام پکڑی تو وہ چاروں طرف پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے۔یہ ذرا سا confusion ہے میرا خیال ہے۔وہ جو دوسرے لوگ وہاں بیٹھے کھانا کھا رہے تھے جب انہوں نے دیکھا کہ یہ لوگ اور قریب آگئے ہیں تو وہ لوگ پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے۔کہتے ہیں میں نے کہا اے اخرم یعنی حضرت محرز کو کہا کہ تو ان سے بچ، تاکہ وہ تجھے ہلاک نہ کر دیں یہاں تک کہ رسول اللہ صلی الیکم اور آپ کے صحابہ نہ پہنچ جائیں۔اس نے کہا اے سلمہ ! اگر تو اللہ اور یوم آخرت پر