اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 344
344 الله سة اصحاب بدر جلد 5 یارسول اللہ میری خواہش ہے کہ آپ میرے پاس آئیں اور میرے گھر میں نماز پڑھیں اور میں اسے مسجد بنالوں۔رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا کہ ان شاء اللہ میں آؤں گا۔وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی علیہ یکم اور حضرت ابو بکر ایک دن صبح جس وقت دن چڑھا تو میرے ہاں آئے اور رسول اللہ صلی علیم نے اجازت مانگی۔میں نے آپ کو اجازت دی۔جب آپ صلی للی کم گھر میں تشریف لائے تو بیٹھے نہیں بلکہ فرمایا کہ تم اپنے گھر میں کہاں چاہتے ہو کہ میں نماز پڑھوں۔وہ کہتے ہیں میں نے گھر کے ایک کونے کی طرف اشارہ کر کے آپ کو بتایا کہ یہاں میں چاہتا ہوں۔رسول اللہ صلی للی کم نماز کے لئے وہاں کھڑے ہو گئے۔وہاں نماز پڑھی اور اللہ اکبر کہا اور ہم بھی کھڑے ہو گئے اور صف باندھ لی۔آپ نے دور کعت نماز پڑھی۔پھر سلام پھیر ا۔راوی کہتے ہیں ہم نے آپ کو خَزیرہ گوشت اور آئے یا روٹی سے تیار کردہ جو کھانا ہوتا ہے۔وہ پیش کرنے کے لئے روک لیا جو ہم نے آپ کے لئے تیار کیا ہوا تھا۔راوی کہتے ہیں کہ گھر میں محلے کے کچھ اور آدمی ادھر اُدھر سے آگئے۔جب وہ اکٹھے ہو گئے تو ان میں سے کسی کہنے والے نے کہا کہ مالک بن دخشم کہاں ہے ؟ تو ان میں سے کسی نے کہا کہ وہ تو منافق ہے۔اللہ اور اس کے رسول سے محبت نہیں رکھتا۔شاید نہ آنے کی وجہ سے کہا۔اس علاقے میں رہتے تھے۔رسول اللہ صلی علی کرم نے فرمایا یہ مت کہو کیا تم اسے نہیں دیکھتے کہ اس نے لا إلهَ إِلَّا اللہ کا اقرار کیا ہے۔اور اس سے وہ اللہ کی رضامندی ہی چاہتا ہے۔اس کہنے والے نے کہا کہ اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔پھر اس نے کہا کہ ہم تو اس کی توجہ اور اس کی خیر خواہی منافقین کے لئے ہی دیکھتے ہیں۔شاید دل کی نرمی کی وجہ سے وہ چاہتے ہوں گے کہ منافقین کو بھی تبلیغ کریں اور ان کو اسلام کے قریب لائیں۔اس لئے ہمدردی بھی رکھتے ہوں گے اور اس کی وجہ سے صحابہ میں غلط فہمی پید ا ہو گئی تو رسول اللہ صلی علیہ یکم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے یقیناً اس شخص پر آ یر آگ حرام کر دی ہے جس نے لا اله الا اللہ کا اقرار کیا بشر طیکہ وہ اس اقرار سے اللہ کی رضامندی چاہتا ہو۔826 تو یہ جواب ہے ان نام نہاد علماء کو بھی جو کفر کے فتوے لگانے والے ہیں اور خاص طور پر احمدیوں پر اس حوالے سے ظلم کرنے والے ہیں۔یہ نام نہاد علماء کے اپنے فتووں نے ہی مسلمان ملکوں کے امن و سکون کو برباد کیا ہوا ہے۔پاکستان میں آجکل لبيك يا رسول اللہ تنظیم چلی ہوتی ہے۔وہ نعرے تو لگاتے ہیں۔لبيك يَا رَسُول اللہ لیکن رسول اللہ صلی علی کم کا یہ ارشاد ہے کہ جو لا الهَ اِلَّا اللہ کہتا ہے اس کو بھی تم یہ نہ کہو کہ مسلمان نہیں ہے۔اگر وہ اللہ کی رضا چاہتے ہوئے یہ بات کر رہا ہے تو اللہ تعالیٰ نے اس پر آگ حرام کر دی ہے۔اور یہ کہتے ہیں نہیں تم لوگ اللہ کی رضا چاہتے ہوئے نہیں کہتے۔دلوں کا حال یہ رسول اللہ صلی علی یکم سے زیادہ جاننے والے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے قوم کو بچا کے رکھے۔ایک دوسری روایت میں ہے کہ حضرت عتبان بن مالک نے رسول اللہ صلی للی کام سے عرض کی کہ حضرت مالک بن د خشم منافق ہیں جس پر رسول اللہ صلی اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کیا وہ لا الہ الا اللہ کی شہادت نہیں دیتا۔عتبان نے جواب دیا کیوں نہیں مگر اس کی گواہی کوئی نہیں ہے۔رسول اللہ صلی العلیم نے پوچھا کیا وہ نماز نہیں پڑھتا؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں۔وَلَا صلوۃ لہ لیکن اس کی نماز کوئی نماز نہیں ہے۔(شاید ان