اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 20
اصحاب بدر جلد 5 20 20 دسی کی آواز نکلی۔رسول اللہ صلی علی کرم نے فرمایا کہ اگر وہ بسم اللہ کہتے تو اس طرح جنت میں داخل ہوتے کہ لوگ انہیں دیکھ رہے ہوتے۔بہر حال اس روز، تاریخ کی ایک کتاب میں آگے لکھا ہے کہ جنگ احد کے اس روز حضرت طلحہ کے سر میں ایک مشرک نے دو دفعہ چوٹ پہنچائی۔ایک مرتبہ جبکہ وہ اس کی طرف آرہے تھے۔دوسری دفعہ جبکہ وہ اس سے رخ پھیر رہے تھے۔اس سے کافی خون بہا۔68 حضرت طلحہ کا ہاتھ جو رسول اللہ صلی علم کو تیروں سے بچاتے ہوئے شل ہو گیا تھا اسی واقعہ کی اور تفصیل سیرۃ الحلبیہ میں ایک روایت میں اس طرح بھی ہے کہ قیس بن ابو حازم کہتے ہیں کہ میں نے احد کے دن حضرت طلحہ بن عبید اللہ کے ہاتھ کا حال دیکھا جو رسول اللہ صلی لینینم کو تیر وں سے بچاتے ہوئے شل ہو گیا تھا۔ایک قول ہے کہ اس میں نیزہ لگا تھا اور اس سے اتناخون بہا کہ کمزوری سے بیہوش ہو گئے۔حضرت ابو بکر نے ان پر پانی کے چھینٹے ڈالے یہاں تک کہ ان کو ہوش آیا۔ہوش آنے پر انہوں نے فوراً پو چھا کہ رسول اللہ صلی المیہ یکم کا کیا حال ہے ؟ حضرت ابو بکر نے ان سے کہا وہ خیریت سے ہیں اور انہوں نے ہی مجھے آپ کی طرف بھیجا ہے۔حضرت طلحہ نے کہا الْحَمْدُ لِلهِ كُلُّ مُصِيبَةٍ بَعْدَهُ جلل کہ سب تعریفیں اللہ تعالیٰ ہی کی ہیں۔ہر مصیبت آپ صلی ا کرم کے بعد چھوٹی ہے۔اسی جنگ کے واقعے کی ایک روایت ایک تاریخ میں اس طرح ملتی ہے کہ حضرت زبیر بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی علی یکم احد کے دن دوزر ہیں پہنے ہوئے تھے۔آپ نے چٹان پر چڑھنا چاہا مگر زرہوں کے وزن کی وجہ سے اور سر اور چہرے پر چوٹ سے خون بہنے کی وجہ سے، آپ زخمی ہوئے تھے اس کے بعد کا یہ واقعہ ہے ) آپ صلی للہ ہم کو کمزوری ہو گئی تھی تو چٹان پر چڑھ نہ سکے۔آپ صلی الم نے حضرت طلحہ مو نیچے بٹھایا اور ان کے اوپر پیر رکھ کر چٹان پر چڑھے۔حضرت زبیر کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی علیم کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ طلحہ نے اپنے اوپر جنت واجب کر لی۔70 الله سة 69 اس کے بعد ہمیشہ کے لیے ان کی لنگڑاہٹ دور ہو گئی پھر ایک روایت میں اس طرح ہے کہ حضرت طلحہ کی ایک ٹانگ میں لنگڑاہٹ تھی جس کی وجہ سے وہ صحیح چال کے ساتھ چل نہیں سکتے تھے۔جب انہوں نے آنحضرت صلی علیم کو اٹھایا تو وہ بہت کوشش کر کے اپنی چال اور اپنے قدم ٹھیک رکھ رہے تھے تاکہ لنگڑاہٹ کی وجہ سے آنحضرت کو تکلیف نہ ہو۔اس کے بعد ہمیشہ کے لیے ان کی لنگڑاہٹ دور ہو گئی۔71 عائشہ اور ام اسحاق جو حضرت طلحہ کی بیٹیاں تھیں، ان دونوں نے بیان کیا کہ احد کے دن ہمارے والد کو چو بیس زخم لگے جن میں سے ایک چوکور زخم سر میں تھا اور پاؤں کی رگ کٹ گئی تھی۔انگلی شل ہو گئی تھی اور باقی زخم جسم پر تھے۔ان پر غشی کا غلبہ تھا۔رسول اللہ صلی للی یکیم کے سامنے کے دو دانت ٹوٹ گئے تھے آپ کا چہرہ بھی زخمی تھا۔آپ پر بھی غشی کا غلبہ تھا۔حضرت طلحہ آپ کو اٹھا کر ، اپنی پیٹھ پر اس طرح الٹے قدموں پیچھے ہٹے کہ جب کبھی مشرکین میں سے کوئی ملتا تو وہ اس سے لڑتے یہاں تک کہ م الله سة