اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 19 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 19

اصحاب بدر جلد 5 19 ان دونوں کے درمیان مواخات قائم فرمائی اور جب مسلمان ہجرت کر کے مدینے پہنچے تو رسول اللہ نے حضرت طلحہ اور حضرت ابو ایوب انصاری کے درمیان مواخات قائم فرمائی۔ایک دوسرے قول کے مطابق ایک روایت یہ بھی ہے کہ آنحضرت صلی العالم نے حضرت طلحہ اور حضرت سعید بن زید کے درمیان مواخات قائم فرمائی اور ایک تیسری روایت یہ ہے کہ حضرت طلحہ اور حضرت ابی بن کعب کے درمیان مواخات قائم فرمائی۔جب حضرت طلحہ نے مدینے ہجرت کی تو وہ حضرت اسعد بن زرارہ کے مکان پر ٹھہرے۔64 مالی قربانیاں اور نبی اکرم صلی الم کا انہیں فیاض قرار دینا الله سة حضرت طلحہ کی بعض مالی قربانیوں کی بنا پر آنحضرت صلی اللہ میں نے انہیں فیاض قرار دیا تھا۔بہت فیاض ہیں۔چنانچہ غزوہ ذی قرد کے موقعے پر رسول اللہ صلی علیکم کا گزر ایک چشمے پر سے ہوا تو آنحضرت صلی الی یکم نے اس کے بارے میں پوچھا تو آپ کو بتایا گیا کہ اس کنویں کا نام پنسان ہے اور یہ نمکین ہے۔آپ نے فرمایا نہیں اس کا نام نُعمان ہے اور یہ میٹھا اور پاک ہے۔حضرت طلحہ بن عبید اللہ نے اس کو خریدا اور وقف کر دیا۔اس کا پانی میٹھا ہو گیا۔جب حضرت طلحہ آنحضرت صلی علیم کے پاس آئے اور یہ واقعہ بتایا تو رسول اللہ صلی اللہ ہم نے ان کو فرمایا طلحہ اتم تو بڑے فیاض ہو۔پس ان کو طلحہ فیاض کے نام سے پکارا جانے لگا۔موسیٰ بن طلحہ اپنے والد طلحہ سے روایت بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الم نے احد کے دن حضرت طلحہ کا نام طلحة الخير رکھا۔غزوہ تبوک اور غزوہ ذی قرد کے موقعے پر طَلْحَةُ الفَيَّاض رکھا اور غزوہ حنین کے روز طلْحَةُ الجو در کھا۔اس کا مطلب بھی فیاضی ہے ، سخاوت ہے۔سائب بن یزید سے مروی ہے کہ میں سفر و حضر میں حضرت طلحہ بن عبید اللہ کے ہمراہ رہا مگر مجھے 65 عام طور پر روپے اور کپڑے اور کھانے پر طلحہ سے زیادہ سخی کوئی نہیں نظر آیا۔66 رسول اللہ صلی سلیم نے احد کے دن اپنے صحابہ کی ایک جماعت سے موت پر بیعت لی۔جب بظاہر مسلمانوں کی پسپائی ہوئی تھی تو وہ ثابت قدم رہے اور وہ اپنی جان پر کھیل کر آپ صلی الی نام کا دفاع کرنے لگے یہاں تک کہ ان میں سے کچھ شہید ہو گئے۔بیعت کرنے والے لوگوں میں حضرت ابو بکر، حضرت عمرؓ، حضرت طلحہ ، حضرت سعد، حضرت سہل بن حنیف اور حضرت ابودجانہ شامل تھے۔67 جنگ احد کے دن آنحضرت صلی اللہ ہم کو بچاتے ہوئے تیر اپنے ہاتھوں پر لینے والے حضرت طلحہ احد کے دن حضور صلی الی ایم کے ساتھ شریک ہوئے۔وہ ان لوگوں میں سے تھے جو اس روز رسول اللہ صلی علیم کے ہمراہ ثابت قدم رہے اور آپ سے موت پر بیعت کی۔مالک بن زُھیر نے رسول اللہ صلی علیم کو تیر مارا تو حضرت طلحہ نے رسول اللہ صلی علی یم کے چہرے کو اپنے ہاتھ سے بچایا۔تیر ان کی چھوٹی انگلی میں لگا جس سے وہ بے کار ہو گئی۔جس وقت انہیں تیر لگا، جو پہلا تیر لگا تو تکلیف سے ان کی