اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 339
اصحاب بدر جلد 5 339 کے فاصلے پر تھی اس کے پاس قیام کیا۔جب آنحضرت علی ایم نے فرمایا کہ گنتی کرو کتنے ہیں تو حضرت قیس نے گنتی کر کے رسول اللہ صلی اہل علم سے عرض کیا کہ ان کی تعداد 313 ہے۔حضور صلی این امر یہ سن کر خوش ہوئے اور فرمایا کہ طالوت کے ساتھیوں کی بھی اتنی ہی تعداد تھی۔شقيا سُقیا کے متعلق یہ نوٹ لکھا ہے کہ مسجد نبوی سے اس کا فاصلہ دو کلو میٹر کے قریب تھا اور اس کا پر انا نام محسّیکہ تھا۔حضرت خلاد بیان کرتے ہیں کہ رسول خدا صلی الی یکم نے محسّیکہ کا نام بدل کر سُقیا رکھ دیا تھا۔وہ کہتے ہیں کہ میرے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ میں سقیا کو خرید لوں لیکن مجھ سے پہلے ہی حضرت سعد بن ابی وقاص نے اسے دو اونٹوں کے عوض خرید لیا اور بعض کے مطابق سات اوقیہ یعنی دو سواستی در ہم کے عوض خرید ا گیا۔جب آنحضور صلی علیہ یکم کے پاس اس بات کا ذکر ہوا تو آپ نے فرمایا کہ اس کا سودا بہت ہی نفع مند ہے۔8 ایک دستے کی کمان ان کے سپرد 808 اسی طرح غزوہ بدر کے دن رسول اللہ صلی علی کرم نے ساقہ کی کمان آپ کے سپرد فرمائی تھی۔ساقہ لشکر کاوہ دستہ ہوتا ہے جو پیچھے حفاظت کی غرض سے چلتا ہے۔ایک دفعہ انہوں نے آنحضرت صلی للی کم کی خدمت میں عرض کیا کہ یارسول اللہ ! میں کتنی دیر میں قرآن کریم کا دور کیا کروں۔آپ صلی یکم نے فرمایا کہ پندرہ راتوں میں۔حضرت قیس نے عرض کیا کہ میں اپنے آپ میں اس سے زیادہ کی توفیق پاتا ہوں۔اس پر آپ صلی للی کم نے فرمایا کہ ایک جمعہ سے لے کر اگلے جمعہ تک کر لیا کرو۔انہوں نے عرض کیا کہ میں اپنے آپ میں اس سے بھی زیادہ کی توفیق پاتا ہوں۔پھر انہوں نے ایک لمبے عرصہ تک اسی طرح قرآن کریم کی تلاوت کی یہانتک کہ جب آپ بوڑھے ہو گئے اور اپنی آنکھوں پر پٹی باندھنے لگے تو آپ نے پندرہ راتوں میں دور مکمل کرنا شروع کر دیا۔تب یہ کہا کرتے تھے کہ کاش میں نے نبی صلی لی ایم کی رخصت کو قبول کر لیا ہوتا۔809 حضرت قیس کے دو بچے الفاكة اور اتم حارث تھے۔ان دونوں کی والدہ امامہ بنت معاذ تھیں۔حضرت قیس کی نسل آگے نہ چل سکی۔حضرت قیس کے تین بھائی تھے جنہیں رسول اللہ صلی لیلی کم کی صحبت سے فیضیاب ہونے کا موقع ملا لیکن وہ بدر میں شامل نہ تھے۔ان میں سے حضرت حارث جنگ یمامہ میں شہید ہوئے اور حضرت ابوکلابے اور حضرت جابر بن ابی صعصعہ نے غزوہ موتہ میں جام شہادت نوش کیا۔810