اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 289 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 289

اصحاب بدر جلد 5 289 میں غوطے دیتے تھے اور تم نے فلاں فلاں بات کہی تھی۔اگر وہ دوبارہ تمہیں کریں تو تم ان سے وہی بات کہنا۔656 اے آل یاسر صبر کا دامن نہ چھوڑنا ہ۔۔۔اس کی تفصیل سیرت خاتم النبیین میں اور روایتوں کے حوالے سے بھی حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے اس طرح بیان فرمائی ہے کہ عمار اور ان کے والد یا سر اور ان کی والدہ سمیہ کو بنی مخزوم جن کی غلامی میں سمیہ کسی وقت رہ چکی تھیں اتنی تکالیف دیتے تھے کہ ان کا حال پڑھ کر بدن میں لرزہ پڑنے لگتا ہے۔ایک دفعہ جب ان فدایانِ اسلام کی جماعت کسی جسمانی عذاب میں مبتلا تھی اتفاقاً آنحضرت صلی علی یم بھی اس طرف آنکلے۔آپ نے ان کی طرف دیکھا اور درد مند لہجے میں فرمایا۔صبرًا أَلَ يَاسِرِ فَإِنَّ مَوْعِدَ كُمُ الْجَنَّةِ۔اے آل یاسر (صبر کر ) صبر کا دامن نہ چھوڑنا کہ خدا نے تمہاری انہی تکلیفوں کے بدلہ میں تمہارے لئے جنت تیار کر رکھی ہے۔آخر یا سر تو اسی عذاب کی حالت میں جاں بحق ہو گئے اور بوڑھی سمیہ کی ران میں ظالم ابو جہل نے اس بے دردی سے نیزہ مارا کہ وہ ان کے جسم کو کاٹتا ہوا ان کی شرمگاہ تک جا نکلا اور اس بے گناہ خاتون نے اسی جگہ تڑپتے ہوئے جان دے دی۔اب صرف باقی عمار رہ گئے تھے۔ان کو بھی ان لوگوں نے انتہائی عذاب اور دکھ میں مبتلا کیا اور ان سے کہا کہ جب تک محمد صلی علیم کا کفر نہ کرو گے اسی طرح عذاب دیتے رہیں گے۔چنانچہ آخر عمار نے سخت تنگ آکر کوئی نازیبا الفاظ منہ سے کہہ دیئے جس پر کفار نے انہیں چھوڑ دیا۔لیکن اس کے بعد عمار فوراً آنحضرت صلی ای کم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور زار زار رونے لگے۔آپ نے پوچھا کیوں عمار کیا بات ہے ؟ انہوں نے کہا یارسول اللہ میں ہلاک ہو گیا۔مجھے ظالموں نے اتنا دکھ دیا کہ میں نے آپ کے متعلق کچھ ایسے الفاظ منہ سے کہہ دیئے جو غلط تھے۔آپ نے فرمایا تم اپنے دل کا کیسا حال پاتے ہو ؟ اس نے عرض کیا یا رسول اللہ میرا دل تو اسی طرح مومن ہے اور اللہ اور اس کے رسول کی محبت میں اسی طرح سرشار ہے۔آپ نے فرمایا تو پھر خیر ہے خدا تمہاری اس لغزش کو معاف کرے۔657 حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی کتاب " چشمہ معرفت " میں ایک ہندو پر کاش دیوجی کی کتاب سے ، جو انہوں نے "سوانح عمری حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم" کے نام سے لکھی تھی، چند عبارتیں تحریر فرمائی ہیں۔ایک تو آپ نے جماعت کو اس وقت نصیحت کی تھی کہ یہ کتاب خرید و اور پڑھو ایک غیر مسلم کی لکھی ہوئی ہے۔پھر آپ نے فرمایا کہ " وہ عبارتیں برہمو صاحب کی کتاب کی خلاصہ کے طور پر یہاں لکھی جاتی ہیں 658 اور وہ یہ ہیں۔یہ تحریر فرمایا کہ: "حضرت کے اوپر " یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم "جو ظلم ہو تا تھا اسے جس طرح بن پڑتا تھا وہ