اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 288 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 288

288 اصحاب بدر جلد 5 وادی میں جارہے تھے۔رسول اللہ صلی علیکم نے میرا ہاتھ پکڑا ہوا تھا۔ہم ابو عمار ، عمار اور ان کی والدہ کے پاس آئے۔ان کو تکالیف دی جارہی تھیں۔حضرت یا سر نے کہا کیا ہمیشہ اسی طرح ہو تا رہے گا؟ آپ نے حضرت یا سر سے فرمایا صبر کرو۔اور پھر آپ نے یہ دعا بھی کی کہ اے اللہ ! آل یاسر کی مغفرت فرما اور یقینا تُو نے ایسا کر دیا ہے۔652 یعنی اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی ا م کو بتا دیا تھا کہ ان کی مغفرت ہو گئی جس شدت کے تنگ حالات سے یہ گزر رہے تھے۔ایک روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی الی یوم آل عمار کے پاس سے گزرے ان کو تکلیف دی جارہی تھی آپ نے فرمایا اے آل عمار !خوش ہو جاؤ یقینا تمہارے لئے جنت کا وعدہ ہے۔53 ایک روایت میں ہے آل یا سر کے پاس سے گزرے۔654 سب سے پہلے اسلام کا اظہار کرنے والے سات افراد 653 حضرت عبد اللہ بن مسعود سے مروی ہے کہ سب سے پہلے اسلام کا اظہار کرنے والے سات افراد تھے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت ابو بکر اور حضرت عمار اور ان کی والدہ حضرت سمیہ ، حضرت صہیب ، حضرت بلال اور حضرت مقداد۔رسول اللہ صلی علیم کی حفاظت اللہ تعالیٰ نے ان کے چچا ابو طالب کے ذریعہ سے کروائی اور حضرت ابو بکر کی ان کی قوم کے ذریعہ سے۔یہ جو روایتوں میں تعداد کے لحاظ سے آتا ہے اس میں غلطی بھی ہو سکتی ہے کیونکہ پہلے آیا ہے کہ تھیں آدمی اس وقت تک اسلام قبول کر چکے تھے جب حضرت عمار نے بیعت کی لیکن بہر حال ان کی روایت یہ ہے کہ یہ لوگ تھے یا یہ ایسے لوگ تھے جو سامنے زیادہ تھے اور جن کو تکلیفیں زیادہ دی جاتی تھیں۔بہر حال یہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو بکر کی ان کی قوم کے ذریعہ سے حفاظت ہوئی اور جو باقی بچے انہیں مشرکین نے پکڑ لیا۔وہ انہیں لوہے کی زرہیں پہناتے اور دھوپ میں تپنے کے لئے چھوڑ دیتے۔ان میں سوائے بلال کے کوئی بھی ایسا نہ تھا جو اُن کی خواہش کے مطابق نہ چلا ہو۔بلال نے تو اپنی ذات کو اللہ کے لئے فنا کر دیا تھا۔انہیں ان کی قوم کی وجہ سے ذلیل کیا جاتا تھا۔قریش انہیں بچوں کے حوالے کر دیتے اور وہ انہیں مکہ کی گلیوں میں لئے پھرتے اور وہ احد احد کہتے جاتے تھے۔655 رسول الله على علم حضرت عمار کی آنکھوں سے آنسو پونچھنے لگے حضرت عمار کو مشرکین پانی میں غوطے دے کر تکلیف دیا کرتے تھے۔یعنی سرپانی میں ڈالتے تھے، مارتے تھے۔باقی تکلیفیں تو تھیں ہی۔وہی ٹارچر جو آجکل بھی دنیا میں اپنے مخالفین کو دیا جاتا ہے یا بعض حکومتیں بھی اپنے ملزمان کو دیتی ہیں۔لیکن بہر حال اس سے بڑا ٹارچر ان کو دیا جاتا تھا۔ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی علیکم حضرت عمار کو ملے۔اس وقت حضرت عمار رورہے تھے۔رسول اللہ صلی علیکم حضرت عمار کی آنکھوں سے آنسو پونچھنے لگے اور کہنے لگے تمہیں کفار نے پکڑ لیا تھا۔پھر پانی