اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 207
207 474" اصحاب بدر جلد 5 اجتہادات پر مبنی ہے۔ان کے دینی علم کی فضیلت کے بارے میں یہ روایت ہے : حضرت ابن مسعود کہتے ہیں کہ لوگ جانتے ہیں کہ میں ان سب میں سے کتاب اللہ کا خوب عالم ہوں۔قرآن مجید میں کوئی سورۃ یا آیت نہیں مگر میں جانتا ہوں کہ وہ کب اتری اور کہاں اتری۔ابو وائل راوی کہتے ہیں کہ اس بیان کا کسی نے انکار نہیں کیا۔475 آنحضور صلی الم نے ان سے قرآن سیکھنے کی نصیحت فرمائی جب حضرت عبد اللہ بن مسعود نے یہ بات کہی۔آنحضور صلی الم نے جن چار صحابہ سے قرآن کریم پڑھنے اور سیکھنے کی نصیحت فرمائی ان میں حضرت عبد اللہ بن مسعود کا نام سر فہرست ہے۔476 دیباچہ تفسیر القرآن میں اس کی تفصیل حضرت مصلح موعودؓ نے اس طرح بیان فرمائی ہے کہ چونکہ لوگوں میں حفظ قرآن کریم کا اشتیاق بہت تیز ہو گیا تھا۔رسول اللہ صلی المی کریم نے قرآن کریم پڑھانے والے استادوں کی ایک جماعت مقرر فرمائی جو سارا قرآن رسول اللہ صلی علی یکم سے حفظ کر کے آگے لوگوں کو پڑھاتے تھے۔یہ چار چوٹی کے استاد تھے جن کا کام یہ تھا کہ رسول اللہ صلی علیہ کمی سے قرآن شریف پڑھیں اور لوگوں کو قرآن پڑھائیں۔پھر ان کے ماتحت اور بہت سے صحابہ ایسے تھے جو لوگوں کو قرآن شریف پڑھاتے تھے۔ان چار بڑے استادوں کے نام یہ ہیں: عبد اللہ بن مسعود، سالم مولی ابی حذیفہ، معاذ بن جبل اور ابی بن کعب۔ان میں سے پہلے دو مہاجر ہیں اور دوسرے دو انصاری۔کاموں کے لحاظ سے عبد اللہ بن مسعود ایک مزدور تھے ، سالم ایک آزاد شدہ غلام تھے ، معاذ بن جبل اور ابی بن کعب مدینہ کے رؤسا میں سے تھے۔گویا ہر گروہ میں سے رسول اللہ صلی علیم نے تمام گروہوں کو مد نظر رکھتے ہوئے قاری مقرر کر دیئے تھے۔حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا تھا کہ خُذُوا الْقُرْآنَ مِنْ أَرْبَعَةٍ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ مَسْعُود وَ سَالِمٍ وَمَعَاذِ ابْنِ جَبَل وَأُبَى بن كَعْبٍ جن لوگوں نے قرآن پڑھنا ہو وہ ان چار سے قرآن پڑھیں۔عبد اللہ بن مسعود، سالم، معاذ بن جبل اور اُبی بن کعب۔حضرت مصلح موعودؓ بعد میں لکھتے ہیں کہ یہ چار تو وہ تھے جنہوں نے سارا قرآن رسول اللہ صلی علیل ہم سے سیکھایا آپ کو سنا کر اس کی تصحیح کر الی لیکن اس کے علاوہ بھی بہت سے صحابہ رسول اللہ صلی للی تم سے براہ راست بھی کچھ نہ کچھ قرآن سیکھتے رہتے تھے۔چنانچہ ایک روایت میں آتا ہے کہ ایک دفعہ عبد اللہ بن مسعود نے ایک لفظ کو اور طرح پڑھا تو حضرت عمر نے ان کو روکا اور کہا کہ اس طرح نہیں اس طرح پڑھنا چاہیئے۔اس پر عبد اللہ بن مسعود نے کہا کہ نہیں مجھے رسول اللہ صلیالی ہم نے اسی طرح سکھایا ہے۔حضرت عمر اُن کو پکڑ کر رسول اللہ صلی علیکم کے پاس لے گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے کہا کہ یہ قرآن غلط پڑھتے ہیں۔رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا۔عبد اللہ بن مسعود پڑھ کر سناؤ۔جب انہوں نے پڑھ کر سنایا تو رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا کہ یہ تو ٹھیک ہے۔حضرت عمر نے کہا یارسول اللہ !مجھے تو آپ سة