اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 186
اصحاب بدر جلد 5 186 بن عوف نے کہا اچھا جو شخص اپنا نام واپس لینا چاہتا ہے وہ بولے۔جب سب خاموش رہے تو حضرت عبد الرحمن بن عوف نے کہا کہ سب سے پہلے میں اپنا نام واپس لیتا ہوں۔پھر حضرت عثمان نے کہا۔پھر باقی رونے۔حضرت علیؓ خاموش رہے۔آخر انہوں نے حضرت عبد الرحمن بن عوف سے عہد لیا کہ وہ فیصلہ کرنے میں کوئی رعایت نہیں کریں گے۔انہوں نے عہد کیا اور سب کام ان کے سپر د ہو گیا۔یعنی حضرت عبد الرحمن بن عوف جو بھی فیصلہ کریں گے۔کوئی رعایت نہیں ، طرف داری نہیں ہو گی۔جب عہد ہو گیا تو سارا کام حضرت عبد الرحمن بن عوف کے سپر د ہو گیا۔حضرت عبد الرحمن بن عوف تین دن مدینے کے ہر گھر گئے اور مر دوں اور عورتوں سے پوچھا کہ ان کی رائے کس شخص کی خلافت کے حق میں ہے۔سب نے یہی کہا کہ انہیں حضرت عثمان کی خلافت منظور ہے چنانچہ انہوں نے حضرت عثمان کے حق میں اپنا فیصلہ دے دیا اور وہ خلیفہ ہو گئے۔خدا کی راہ میں خرچ اور سخاوت 404 405 حضرت عبد الرحمن بن عوف کی سخاوت بھی مشہور تھی اور مالی قربانیاں بھی انہوں نے بہت کیں۔اس حوالہ سے آج اکثر حوالے ہیں۔ایک روایت میں ہے کہ حضرت عبد الرحمن بن عوف نے وصیت کی تھی کہ جنگ بدر میں شریک ہونے والے ہر ایک کو چار سو دینار ان کے ترکہ میں سے دیے جائیں۔چنانچہ اس پر عمل کیا گیا اس وقت ان اصحاب کی تعداد سو تھی۔رسول کریم صلی اللی کلم نے جب صحابہ کرام کو غزوہ تبوک کی تیاری کے لیے حکم دیا تو آپ صلی اللہ ہم نے امراء کو اللہ کی راہ میں مال اور سواری مہیا کرنے کی تحریک بھی فرمائی۔اس پر سب سے پہلے حضرت ابو بکر آئے اور اپنے گھر کا سارا مال لے آئے جو کہ چار ہزار درہم تھے۔رسول اللہ صلی علیم نے حضرت ابو بکر سے دریافت فرمایا کہ اپنے گھر والوں کے لیے بھی کچھ چھوڑا ہے تو انہوں نے عرض کیا کہ گھر والوں کے لیے اللہ اور اس کا رسول چھوڑ آیا ہوں۔حضرت عمرؓ اپنے گھر کا آدھا مال لے کر آئے۔آنحضرت صلی الم نے حضرت عمرؓ سے دریافت فرمایا کہ اپنے گھر والوں کے لیے بھی کچھ چھوڑا ہے تو انہوں نے عرض کیا نصف چھوڑ کر آیا ہوں۔حضرت عبد الرحمن بن عوف نے ایک سو اوقیہ دیے۔ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے۔یعنی تقریباً چار ہزار در ہم۔آپ ملی ایم نے فرمایا کہ عثمان بن عفان اور عبد الرحمن بن عوف زمین پر اللہ تعالیٰ کے خزانوں میں سے دو خزانے ہیں جو اللہ کی رضا کے لیے خرچ 406 کرتے ہیں۔حضرت ام بکر بنت میسور روایت کرتی ہیں کہ حضرت عبد الرحمن بن عوف نے حضرت عثمان سے ایک زمین چالیس ہزار دینار کے عوض خریدی اور بنو زھرہ کے غرباء اور ضرورت مندوں اور امہات المومنین میں تقسیم فرما دی۔مسور بن مخرمہ کہتے ہیں کہ جب میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو