اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 172
اصحاب بدر جلد 5 172 نے اس کو مارا ہے۔دونوں نے کہا میں نے اس کو مارا ہے۔آپ نے پوچھا کیا تم نے اپنی تلواریں پونچھ کر صاف کر لی ہیں ؟ انہوں نے کہا نہیں۔آپ نے تلواروں کو دیکھا۔آپ صلی نیلم نے فرمایا تم دونوں نے ہی اس کو مارا ہے۔اس کا سامانِ غنیمت مُعاذ بن عمرو بن جموح کو ملے گا اور ان دونوں کا نام مُعاذ تھا۔مُعاذ بن عفراء اور معاذ بن عمرو بن جموح۔یہ بخاری کی روایت ہے۔ابو جہل کو قتل کرنے والے 377 ابو جہل کے قتل کے سلسلہ میں یہ وضاحت پہلے بھی ہو چکی ہے۔دوبارہ بیان کر دیتا ہوں کہ بعض روایات میں ہے کہ عفراء کے دو بیٹوں معوذ اور مُعاذ نے ابو جہل کو موت کے قریب پہنچا دیا تھا اور بعد میں حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ نے اس کا سر تن سے جدا کیا تھا۔امام ابنِ حجر نے اس احتمال کا اظہار کیا ہے کہ مُعاذ بن عمر و اور معاذ بن عَفْراء کے بعد مُعَوَّذ بن عَفْراء نے بھی اس پر وار کیا ہو گا۔یہ بھی شرح بخاری فتح الباری میں لکھا ہے۔7 جنگ بدر اور عبد الرحمن بن عوف۔۔۔۔۔۔۔اس واقعے کو حضرت مصلح موعودؓ نے اس طرح بیان فرمایا ہے کہ ابو جہل جو مکہ کے تمام گھرانوں کا سردار اور کفار کی فوج کا کمانڈر تھا جب بدر کی جنگ کے موقعے پر وہ فوج کی ترتیب کر رہا تھا حضرت عبد الرحمن بن عوف جیسا تجربہ کار جرنیل کہتا ہے کہ میں نے اپنے دائیں بائیں دو انصاری لڑکوں کو دیکھا جو پندرہ پندرہ سال کی عمر کے تھے۔میں نے ان کو دیکھ کر کہا آج دل کی حسرتیں نکالنے کا موقع نہیں۔بد قسمتی سے میرے ارد گرد نا تجربہ کار بچے اور وہ بھی انصاری بچے کھڑے ہیں جن کو جنگ سے کوئی مناسبت ہی نہیں۔حضرت مصلح موعود لکھتے ہیں کہ حضرت عبد الرحمن کہتے ہیں کہ میں اسی ادھیٹر بن میں تھا کہ دائیں طرف سے میرے پہلو میں کہنی لگی۔میں نے سمجھا کہ دائیں طرف کا بچہ کچھ کہنا چاہتا ہے اور میں نے اس کی طرف اپنا منہ موڑا۔اس نے کہا چچا ذرا جھک کر بات سنو۔میں آپ کے کان میں ایک بات کہنا چاہتا ہوں تا کہ میر اسا تھی اس بات کو سن نہ لے۔وہ کہتے ہیں جب میں نے اپنا کان اس کی طرف جھکایا تو اس نے کہا چا وہ ابو جہل کون سا ہے جو رسول کریم صلی علیکم کو اس قدر دکھ دیا کرتا تھا۔چا میرا دل چاہتا ہے کہ میں اس کو ماروں۔وہ کہتے ہیں کہ ابھی اس کی یہ بات ختم نہیں ہوئی تھی کہ میرے بائیں پہلو نہیں کہنی لگی اور میں اپنے بائیں طرف کے بچہ کی طرف جھک گیا اور اس بائیں طرف والے بچہ نے بھی یہی کہا کہ چاوہ ابو جہل کونسا ہے جو رسول کریم صلی علیکم کو اتنا دکھ دیا کرتا تھا؟ میرا دل چاہتا ہے کہ میں آج اس کو ماروں۔حضرت عبد الرحمن بن عوف کہتے ہیں باوجود تجربہ کار سپاہی ہونے کے میرے دل میں یہ خیال بھی نہیں آسکتا تھا کہ ابو جہل جو فوج کا کمانڈر تھا، جو تجربہ کار سپاہیوں کے حلقہ میں کھڑا تھا اس کو میں مار سکتا ہوں۔میں نے انگلی اٹھائی اور ایک ہی وقت میں ان دونوں لڑکوں کو بتایا کہ وہ سامنے جو شخص خود