اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 152 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 152

اصحاب بدر جلد 5 152 میں اپنی رائے پر اصرار نہیں کرنا چاہیے اور اکثر ان میں سے پشیمانی کی طرف مائل تھے۔جب ان لوگوں نے آنحضرت صلی علی کم کو ہتھیار لگائے اور دہری زرہ اور خود وغیرہ پہنے ہوئے دیکھا کہ آپ تشریف لائے ہیں تو ان کو اور بھی زیادہ ندامت ہو گئی اور زیادہ پریشان ہو گئے۔اور انہوں نے قریباً ایک زبان ہو کر عرض کیا کہ یارسول اللہ ہم سے غلطی ہو گئی کہ ہم نے آپ کی رائے کے مقابلے میں اپنی رائے پر اصرار کیا۔آپ جس طرح مناسب خیال فرماتے ہیں اسی طرح کارروائی فرمائیں۔ان شاء اللہ اسی میں برکت ہو گی۔آپ نے بڑے جوش سے فرمایا کہ خدا کے نبی کی شان سے بعید ہے کہ وہ ہتھیار لگا کر پھر اسے اتار دے قبل اس کے کہ خدا کوئی فیصلہ کرے۔اب یہ تو نہیں ہو سکتا۔یہ خدا کے نبی کی شان نہیں ہے کہ ہتھیار لگائے اور پھر انہیں اتار دے سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہو۔پس اب اللہ کا نام لے کر چلو اور اگر تم نے صبر سے کام لیا تو یقین رکھو کہ اللہ تعالیٰ کی نصرت تمہارے ساتھ ہو گی۔غزوہ احد کے لئے روانگی اس کے بعد آنحضرت صلی الل ولم نے لشکر اسلامی کے لیے تین جھنڈے تیار کروائے۔قبیلہ اوس کا جھنڈا اُسید بن حضیر کے سپرد کیا گیا اور قبیلہ خزرج کا جھنڈا حباب بن منذر کے ہاتھ میں دیا گیا اور مہاجرین کا جھنڈا حضرت علی کو دیا گیا اور پھر مدینے میں عبد اللہ بن ام مکتوم کو امام الصلوۃ مقرر کر کے آپ صحابہ کی بڑی جماعت کے ہم راہ نمازِ عصر کے بعد مدینے سے نکلے۔قبیلہ اوس اور خزرج کے رؤساء سعد بن معاذ اور سعد بن عبادہ آپ کی سواری کے سامنے آہستہ آہستہ دوڑتے جاتے تھے اور باقی صحابہ آپ کے دائیں اور بائیں اور پیچھے چل رہے تھے۔احد کا پہاڑ مدینے کے شمال کی طرف قریباً تین میل کے فاصلے پر واقع ہے۔کم عمر نوجوانوں کی واپسی اور رافع اور سمرہ رضی اللہ عنہما کی کشتی اس کے نصف میں پہنچ کر، آدھا سفر کلے کر کے اس مقام پر جسے شیخین کہتے ہیں، یہ مدینے کے قریب ایک مقام کا نام ہے وہاں آپ نے قیام فرمایا اور لشکر اسلام کا جائزہ لیے جانے کا حکم دیا۔کم عمر بچے جو جہاد کے شوق میں ساتھ آگئے تھے وہ واپس کیے گئے چنانچہ عبد اللہ بن عمر، اسامہ بن زید، ابوسعید خدری وغیرہ سب واپس کیے گئے۔رافع بن خدیج انہیں بچوں کے ہم عمر تھے مگر تیر اندازی میں اچھی مہارت رکھتے تھے۔ان کی اس خوبی کی وجہ سے ان کے والد نے آنحضرت صلی للی نیم کی خدمت میں ان کی سفارش کی کہ ان کو شریک جہاد ہونے کی اجازت دی جائے۔آنحضرت صلی علیم نے رافع کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا تو وہ سپاہیوں کی طرح خوب تن کر کھڑے ہو گئے تاکہ چست اور لمبے نظر آئیں چنانچہ ان کا یہ داؤ چل گیا اور آنحضرت صلی علیم نے ان کو بھی ساتھ چلنے کی اجازت دے دی۔اس پر ایک اور بچہ سمرہ بن جندب جسے واپسی کا حکم مل چکا تھا اپنے باپ کے پاس گیا اور کہا کہ اگر رافع کو لیا گیا ہے تو مجھے بھی اجازت ملنی چاہیے کیونکہ میں رافع سے مضبوط ہوں اور