اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 142 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 142

اصحاب بدر جلد 5 142 غزوہ عشیرہ اور تحریری معاہدہ صلح و امن غزوہ عشیرہ کے بارے میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب لکھتے ہیں کہ " جمادی الاولیٰ میں پھر قریش مکہ کی طرف سے کوئی خبر پا کر آپ مہاجرین کی ایک جماعت کے ساتھ مدینہ سے نکلے اور اپنے پیچھے اپنے رضاعی بھائی ابو سلمہ بن عبد الاسد کو امیر مقرر فرمایا۔اس غزوہ میں آپ کئی چکر کاٹتے ہوئے بالآخر ساحل سمندر کے قریب ینبع کے مقام عشیرہ تک پہنچے۔اور گو قریش کا مقابلہ نہیں ہوا مگر اس میں آپ نے قبیلہ بنو مدلج کے ساتھ انہی شرائط پر جو بنو ضمرہ کے ساتھ قرار پائی تھیں ایک معاہدہ طے فرمایا اور پھر واپس تشریف لے آئے۔314 بنو ضمرہ کے ساتھ یہ شرائط طے پائی تھیں کہ بنو ضمرہ مسلمانوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھیں گے اور مسلمانوں کے خلاف کسی دشمن کی مدد نہیں کریں گے اور جب آنحضرت صلی علیکم ان کو مسلمانوں کی مدد کے لئے بلائیں گے تو وہ فوراً آ جائیں گے۔دوسری طرف آپ صلی یم نے مسلمانوں کی طرف سے یہ عہد کیا کہ مسلمان قبیلہ بنو ضمرہ کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھیں گے اور بوقت ضرورت ان کی مدد کریں گے۔یہ معاہدہ با قاعدہ لکھا گیا اور فریقین کے اس پر دستخط ہوئے۔ایک مہم کی سر براہی اور وفات 315 پھر سیرۃ خاتم النبیین میں لکھا ہے کہ " جنگ اُحد میں جو ہزیمت مسلمانوں کو پہنچی اس نے قبائل عرب کو مسلمانوں کے خلاف سر اٹھانے پر آگے سے بھی زیادہ دلیر کر دیا۔چنانچہ ابھی جنگ اُحد پر زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا اور صحابہ ابھی اپنے زخموں کے علاج سے بھی پوری طرح فارغ نہیں ہوئے تھے کہ محرم 4 ہجری میں اچانک آنحضرت صلی علیہ کم کو مدینہ میں یہ اطلاع پہنچی کہ قبیلہ اسد کار کیس طلیحہ بن خویلد اور اس کا بھائی سلمہ بن خویلد اپنے علاقہ کے لوگوں کو آنحضرت صلی علیم کے خلاف جنگ کرنے کے لئے آمادہ کر رہے ہیں۔اس خبر کے ملتے ہی آنحضرت صلی علیم نے جو اپنے ملک کے حالات کے ماتحت اس قسم کی خبروں کے خطرات کو خوب سمجھتے تھے فوراڈیڑھ سو صحابیوں کا ایک تیز رو دستہ تیار کر کے اس پر ابو سلمہ بن عبد الاسد کو امیر مقرر فرمایا اور انہیں تاکید کی کہ یلغار کرتے ہوئے پہنچیں اور پیشتر اس کے کہ بنو اسد اپنی عداوت کو عملی جامہ پہنا سکیں انہیں منتشر کر دیں۔چنانچہ ابوسلمہ نے تیزی مگر خاموشی کے ساتھ بڑھتے ہوئے وسط عرب کے مقام قطن میں بنو اسد ایک پہنچ گئے اور انہیں جالیا۔لیکن کوئی لڑائی نہیں ہوئی بلکہ بنو اسد کے لوگ مسلمانوں کو دیکھتے ہی ادھر اُدھر منتشر ہو گئے۔اور ابو سلمہ چند دن کی غیر حاضری کے بعد مدینہ میں واپس پہنچ گئے۔اس سفر کی غیر معمولی مشقت سے ابو سلمہ کا وہ زخم جو انہیں اُحد میں آیا تھا اور اب بظاہر مندمل ہو چکا تھا پھر خراب ہو گیا اور باوجود علاج معالجہ کے بگڑتا ہی گیا اور بالآخر اسی بیماری میں اس مخلص اور پرانے صحابی نے جو آنحضرت صلی لیلی کیم کے رضاعی بھائی بھی تھے وفات پائی۔316