اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 143
اصحاب بدر جلد 5 143 انہیں اليسيرة کنوئیں کے پانی سے غسل دیا گیا جو عالیہ مقام پر بنو امیہ بن زید کی ملکیت میں تھا۔اس کنوئیں کا نام جاہلیت میں العبیر تھا جس کو رسول اللہ صلی عملی کم نے بدل کر اليسيرة رکھ دیا تھا۔اور حضرت ابو سلمہ کو مدینہ میں دفن کیا گیا۔317 حضرت ام سلمہ کی ایک مقبول دعا حضرت ابوسلمہ کی جب وفات ہوئی تو آنحضرت صلی للی یکم نے آپ کی کھلی آنکھوں کو بند کیا اور ان کی وفات کے بعد یہ دعا کی کہ اے اللہ ! ابوسلمہ سے مغفرت کا سلوک فرما اور اس کے درجات ہدایت یافتہ لوگوں میں بلند کر دے اور پیچھے رہ جانے والے اس کے پسماندگان میں خود اس کا قائمقام ہو جا۔اسے تمام جہانوں کے رب! اسے بخش دے اور ہمیں بھی۔ایک روایت میں یہ ہے کہ جب حضرت ابو سلمہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے یہ دعا کی کہ اے خدا میرے اہل پر میر اجانشین بہترین شخص کو بنانا۔چنانچہ یہ دعا قبول ہوئی اور آنحضرت صلی علی کرم نے حضرت ام سلمہ سے نکاح کر لیا۔318 حضرت ام سلمہ کے بیٹے بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو سلمہ حضرت ام سلمہ کے ہاں تشریف لائے اور فرمانے لگے میں نے رسول اللہ صلی اللی کم سے حدیث سنی ہے جو مجھے فلاں فلاں چیز سے زیادہ عزیز ہے۔آپ علی سلیم نے فرمایا تھا کہ جس شخص کو جو بھی مصیبت پہنچے اس پر وہ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رجِعُوْنَ کہہ کر یہ کہے کہ اے اللہ ! میں اپنی اس مصیبت کا آپ کے ہاں سے ثواب طلب کرتا ہوں۔اے اللہ ! مجھے اس کا بدل عطا فرما تو اللہ تعالیٰ اسے عطا کر دیتا ہے۔حضرت ام سلمہ بیان کرتی ہیں کہ جب ابو سلمہ شہید ہوئے تو میں نے یہ دعا مانگی جبکہ میرا دل پسند نہیں کر رہا تھا کہ میں دعا مانگوں کہ اے اللہ ! مجھے ان یعنی حضرت ابو سلمہ کا بدل عطا فرما۔پھر میں نے کہا ابو سلمہ سے بہتر کون ہو سکتا ہے ؟ کیا وہ ایسے نہ تھے ؟ کیا وہ ویسے نہ تھے ؟ یعنی ایسی ایسی خوبیوں اور صفات حسنہ کے مالک تھے۔پھر بھی میں یہ دعا پڑھتی رہی۔جب حضرت اتم سلمہ کی عدت پوری ہوئی تو رسول کریم صلی یی کم کی طرف سے پیغام نکاح آیا اور آنحضرت صلی علیم نے ان کے ساتھ شادی کر لی۔319 آنحضرت علی ایم کی حضرت ام سلمہ سے شادی شادی کا تذکرہ کرتے ہوئے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے سیرت خاتم النبیین میں لکھا کہ اسی سال ( 4 ہجری) ماہ شوال میں آنحضرت صلی علی یم نے ام سلمہ سے شادی فرمائی۔ام سلمہ قریش کے ایک معزز گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں اور اس سے پہلے ابو سلمہ بن عبد الاسد کے عقد میں تھیں جو ایک نہایت مخلص اور پرانے صحابی تھے اور اسی سال فوت ہوئے تھے۔جب اتم سلمہ کی عدت (یعنی وہ میعاد جو اسلامی شریعت کی رو سے ایک بیوہ یا مطلقہ عورت پر گزرنی ضروری ہوتی ہے اور اس سے پہلے وہ نکاح نہیں کر سکتی وہ گزرگئی تو چونکہ ام سلمہ ایک نہایت سمجھدار اور باسلیقہ اور قابل خاتون تھیں اس