اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 141 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 141

اصحاب بدر جلد 5 141 آگے جا کر بنو مخزوم کے چند لوگوں نے گھیر لیا اور کہا کہ اتم سلمہ ہماری لڑکی ہے ہم اس کو تمہارے ساتھ نہیں جانے دیں گے کہ تم اسے لے کر شہر بہ شہر پھرتے رہو۔حضرت ام سلمہ کہتی ہیں غرض یہ کہ ان لوگوں نے میرے خاوند کو مجھ سے چھین لیا۔حضرت ابو سلمہ کے قبیلہ بنو عبد الاسد کے لوگ اس بات پر بہت خفا ہوئے اور انہوں نے کہا کہ یہ لڑکا ابو سلمہ کا ہے اس کو ہم تمہارے پاس نہیں چھوڑیں گے چنانچہ وہ میرے بچے کو لے گئے۔(لڑکی کو اس کے قبیلے نے رکھ لیا اور جو بچہ تھا وہ مرد کے قبیلے والے نے نے لیا) اور کہتی ہیں کہ میں بالکل تنہا رہ گئی۔میں ایک سال تک اسی مصیبت میں گرفتار رہی کہ ہر روز ابطح مقام پر جا کر میں روتی رہی۔ایک روز میرے چچا کے بیٹوں میں سے ایک شخص نے مجھے وہاں روتے دیکھا تو اس کو مجھ پر رحم آیا اور اس نے میری قوم بنو مُغیرۃ سے جا کر کہا کہ تم اس مسکین عورت کو کیوں ستاتے ہو۔تم نے اس کو اس کے خاوند اور بچے سے جدا کر دیا ہے اس کو چھوڑ دو۔اس پر انہوں نے مجھے کہہ دیا کہ اپنے خاوند کے پاس چلی جاؤ۔حضرت ام سلمہ کہتی ہیں کہ اس کے بعد میرے بیٹے کو بنی عبد الاسد نے واپس کر دیا۔پھر میں نے اپنے اونٹ کو تیار کیا اور اپنے بچے کو ساتھ لے کر اس پر سوار ہوئی۔جب میں مدینہ کو روانہ ہوئی تو کوئی بھی مددگار میرے ساتھ نہ تھا۔جب مقام تنعیم میں پہنچی تو وہاں پر مجھے حضرت عثمان بن طلحہ بن ابو طلحہ ، ( یہ اس وقت مسلمان نہیں ہوئے تھے۔انہوں نے سن 6 ہجری میں اسلام قبول کیا تھا) ملے اور مجھے کہنے لگے کہ اے ام سلمہ کدھر جارہی ہیں ؟ میں نے کہا کہ میں اپنے خاوند کے پاس مدینہ جارہی ہوں۔حضرت عثمان نے دریافت کیا کہ کیا تمہارے ساتھ کوئی ہے ؟ میں نے کہا کہ خدا کی قسم ! کوئی بھی نہیں۔صرف میرا یہ بیٹا اور خدا میرے ساتھ ہے۔عثمان نے کہا کہ اللہ کی ! اس طرح تن تنہا میں تمہیں ہر گز نہیں جانے دوں گا۔میں تمہارے ساتھ چلتا ہوں۔پھر انہوں نے میرے اونٹ کی مہار پکڑ لی۔حضرت ام سلمہ بیان کرتی ہیں کہ اللہ کی قسم ! میں نے عرب کے آدمیوں میں سے اتنا معزز شخص کوئی نہیں دیکھا۔جب منزل پر پہنچتے تو اونٹ کو بٹھا کر الگ ہو جاتے۔(مختلف جگہوں پر پڑاؤ ڈالتے ہوئے جاتے تھے۔جب ایک منزل پر پہنچتے تو اونٹ کو بٹھاتے اور الگ ہو جاتے) میں جس وقت اونٹ سے اترتی تو وہ اونٹ پر سے اس کا کجاوہ اتار کر اسے درخت سے باندھ دیتے اور علیحدہ درخت کے سائے میں جا کر سو جاتے۔جب چلنے کا وقت ہوتا تو وہ اونٹ کو تیار کر دیتے اور پھر میں اس پر سوار ہو جاتی اور وہ تکمیل پکڑ کر چل پڑتے یہاں تک کہ ہم اسی طرح مدینہ پہنچ گئے۔حضرت عثمان بن ابو طلحہ نے جب قبا میں بنو عمرو بن عوف کے گاؤں کو دیکھا تو مجھ سے کہا کہ اے ام سلمہ ! تمہارے خاوند ابو سلمہ یہیں پر ٹھہرے ہوئے ہیں۔تم خدا کی برکت کے ساتھ اس جگہ میں داخل ہو جاؤ اور پھر عثمان واپس مکہ کو چلے گئے۔312 مدینہ کا امیر مقرر ہونا ہجرت کے دوسرے سال جب رسول الله صلى اللهم غزوہ عشیرہ کے لئے نکلے تو ابو سلمہ کو مدینہ میں امیر مقرر فرمایا۔313