اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 106 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 106

اصحاب بدر جلد 5 مقفل ہو گئے۔242 106 یہی حالات آجکل پاکستان میں بھی بعض جگہ احمدیوں کے ساتھ ہیں۔بعض گاؤں خالی ہو گئے ہیں۔ابن اسحاق کہتے ہیں کہ جب بنو جحش بن رئاب نے مکہ سے ہجرت کی تو ابوسفیان بن حرب نے ان کے مکان کو عمرو بن علقمہ کے ہاتھ فروخت کر دیا۔جب یہ خبر مدینہ میں حضرت عبد اللہ بن جحش کو پہنچی تو انہوں نے آنحضور صلی علی کرم سے یہ بات عرض کی۔اس پر آنحضرت صلی علیم نے فرمایا کہ اے عبد اللہ کیا تو اس بات سے راضی نہیں ہے کہ خدا اس کے بدلہ میں تجھ کو جنت میں محل عنایت کرے۔حضرت عبد اللہ بن جحش نے عرض کیا کہ ہاں یار سول اللہ صلی علی کلم میں راضی ہوں۔تو آپ نے فرمایا پس وہ محل تیرے واسطے ہیں۔243 یعنی یہ مکانات جو تم نے چھوڑے ہیں ان کی جگہ تمہیں جنتوں میں جگہ ملے گی وہاں محل تیار ہوں گے۔سریہ عبد اللہ بن جحش حضرت عبد اللہ بن جحش کو رسول کریم صلی علیم نے ایک سریہ میں وادی نخلہ کی طرف بھیجا جس کا ذکر کتب میں اس طرح ملتا ہے کہ آنحضور صلی یم نے ایک دن جب عشاء کی نماز ادا کر لی تو آپ صلی یکم نے حضرت عبد اللہ بن جحش کو فرمایا کہ صبح کو اپنے ہتھیاروں سے لیس ہو کر آنا تمہیں ایک جگہ بھیجنا ہے۔چنانچہ جس وقت حضور صلی الی یک نماز فجر سے فارغ ہوئے تو آپ صلی علیہم نے حضرت عبد اللہ بن جحش کو اپنے تیر و ترکش، نیزہ اور ڈھال سمیت اپنے گھر کے دروازے پر انتظار کرتے ہوئے کھڑا پایا۔آنحضور صلی یکم نے حضرت ابی بن کعب کو بلوایا اور انہیں ایک خط لکھنے کا حکم دیا جب وہ خط لکھا گیا تو حضرت عبد اللہ بن جحش کو بلا کر اس خط کو ان کے سپر د کرتے ہوئے فرمایا کہ میں تمہیں اس جماعت کا نگران مقرر کرتا ہوں جو آپ کی قیادت میں بھیجا گیا تھا۔تاریخ میں آتا ہے کہ اس سے پہلے آپ نے اس جماعت پر حضرت عبیدہ بن حارث کو مقرر کیا تھا لیکن روانگی سے پہلے جب وہ رخصت ہونے کے لئے اپنے گھر گئے تو ان کے بچے آنحضرت صلی علیکم کے پاس آکر رونے لگے تو آپ صلی علیم نے حضرت عبد اللہ بن جحش کو ان کی جگہ امیر بناکر بھیجا اور حضرت عبد اللہ بن جحش کو بھیجتے وقت آنحضور صلی ا ہم نے ان کا لقب امیر المومنین رکھا۔سیرۃ الحلبیہ میں یہ لکھا ہوا ہے۔اس طرح حضرت عبد اللہ بن جحش وہ پہلے خوش نصیب صحابی تھے جن کا دور اسلام میں امیر المومنین لقب رکھا گیا۔عمرو بن حضرمی کا قتل اور مشرکین کا حرمت والے مہینوں کی بابت ایک اعتراض حضرت مصلح موعود آیت يَسْتَلُونَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالِ فِیهِ (البقرة:218) کی تفسیر میں اس واقعہ کا ذکر ان الفاظ میں فرماتے ہیں کہ : رسول کریم صلی علم جب مکہ مکرمہ سے ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے تو اس کے بعد بھی مکہ والوں کے جوش غضب میں کوئی کمی نہ آئی بلکہ انہوں نے مدینہ والوں کو دھمکیاں دینی شروع کر دیں 244