اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 105 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 105

105 195 اصحاب بدر جلد 5 نام و نسب حضرت عبد اللہ بن جحش آنحضرت صلی الل علم کے پھوپھی زاد بھائی حضرت عبد اللہ بن جحش۔آپ کی والدہ امیمہ بنت عبد المطلب آنحضرت صلی علیکم کی رشتہ میں پھوپھی تھیں۔اس طرح آپ حضور علی علی یم کے پھوپھی زاد بھائی تھے۔آنحضرت صلی یی کم کے دارِ ار قم میں جانے سے قبل ہی انہوں نے اسلام قبول کر لیا تھا۔239 دار ارقم وہ مکان ہے یا مرکز ہے جو ایک نو مسلم ارقم بن ارقم کا مکان تھا اور مکہ سے ذرا سا باہر تھا۔وہاں مسلمان جمع ہوتے تھے اور دین سیکھنے اور عبادت وغیرہ کرنے کے لئے ایک مرکز تھا اور اسی شہرت کی وجہ سے اس کا نام دار الا سلام کے نام سے بھی مشہور ہوا اور یہ مکہ میں تین سال تک مرکز رہا۔وہیں خاموشی سے عبادت کیا کرتے تھے۔آنحضرت صلی ایم کی مجلسیں لگا کرتی تھیں اور پھر جب حضرت عمر نے اسلام قبول کیا تو پھر کھل کر باہر نکلنا شروع کیا۔روایت میں آتا ہے کہ حضرت عمرؓ اس مرکز میں اسلام لانے والے آخری شخص تھے۔حبشہ کی طرف دو مر تبہ ہجرت 240 بہر حال یہ مرکز بننے سے پہلے ہی حضرت عبد اللہ بن جحش نے اسلام قبول کر لیا تھا اور پھر روایت میں آتا ہے کہ مشرکین قریش کے دست ظلم سے آپ کا خاندان بھی محفوظ نہیں تھا۔آپ نے اپنے دونوں بھائیوں حضرت ابو احمد اور عبید اللہ اور اپنی بہنوں حضرت زینب بنت جحش، حضرت ام حبیبہ اور حمنہ بنت جحش کے ہمراہ دو دفعہ حبشہ کی طرف ہجرت کی۔ان کے بھائی عبید اللہ حبشہ جاکر عیسائی ہو گئے تھے اور وہیں عیسائی ہونے کی حالت میں ان کی وفات ہوئی جبکہ ان کی بیوی حضرت ام حبیبہ بنت ابوسفیان ابھی حبشہ میں ہی تھیں کہ آنحضور صلی یہ نیلم نے ان سے اس وقت نکاح کر لیا۔ہجرت مدینہ 241 حضرت عبد اللہ بن جحش مدینہ ہجرت سے قبل مکہ آئے اور یہاں سے اپنے قبیلہ بنو غنم میں دُؤدَان کے تمام افراد کو ( یہ سب کے سب دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے تھے ) ساتھ لے کر مدینہ پہنچے۔انہوں نے اپنے رشتہ داروں سے مکہ کو اس طرح خالی کر دیا تھا کہ محلہ کا محلہ بے رونق ہو گیا اور بہت سے مکانات