اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 104
اصحاب بدر جلد 5 کی انتڑیاں بھی باہر نکل آئیں۔104 حضرت خوات بن جُبیر کہتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن جبیر کی جب یہ حالت ہوئی تو اس وقت مسلمان وہاں گھوم کر پہنچ گئے اور میں بھی ان کے ساتھ تھا۔کہتے ہیں کہ میں اس مقام پر ہنسا جہاں کوئی نہیں ہنستا ( اپنی حالت بیان کر رہے ہیں ) اور اس مقام پر اونگھا جہاں کوئی نہیں اونگھتا اور اس مقام پر میں نے بخل کیا جہاں کوئی بخل نہیں کرتا۔یہ تینوں چیزیں ایسی حالت میں کسی انسان سے نہیں ہو سکتی۔ان سے کہا گیا کہ یہ کیا کیفیت ہے ؟ آپ نے یہ کیوں کیا؟ حضرت خوات نے کہا کہ میں نے دونوں بازوؤں سے اور ابو حنہ نے دونوں پاؤں سے پکڑ کر حضرت عبد اللہ کو اٹھایا۔میں نے اپنے عمامے سے ان کا زخم باندھ دیا۔جس وقت ہم انہیں اٹھائے ہوئے تھے مشرکین ایک طرف تھے۔میر ا عمامہ ان کے زخموں سے کھل کر نیچے گر پڑا اور حضرت عبد اللہ بن جبیر کی آنتیں باہر نکل پڑیں۔میر اسا تھی گھبر ا گیا اور اس خیال سے کہ دشمن قریب ہے اپنے پیچھے دیکھنے لگا۔اس پر میں ہنس پڑا کہ یہ اس وقت کیا کر رہا ہے ) پھر ایک شخص اپنا نیزہ لے کر آگے بڑھا اور وہ اسے میرے حلق کے سامنے لارہا تھا کہ مجھ پر نیند غالب آگئی اور نیزہ ہٹ گیا۔( یہ بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی ایک مدد ہوئی۔کہتے ہیں اونگھ کیوں آئی ؟ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہی اونگھ آ گئی۔اس حالت میں میں کر تو کچھ سکتا نہیں تھا۔نیزہ میرے بالکل گلے کے قریب تھا لیکن پھر وہ نیزہ ہٹ گیا) اور جب میں حضرت عبد اللہ بن جبیر کے لئے قبر کھودنے لگا تو اس وقت میرے پاس میری کمان تھی۔چٹان ہمارے لئے سخت ہو گئی تو ہم اس کی نعش کو لے کر وادی میں اترے اور میں نے اپنی کمان کے کنارے کے ساتھ قبر کھو دی۔کمان میں وتر بندھی ہوئی تھی۔میں نے کہا کہ میں اپنی وتر کو خراب نہیں کروں گا۔پھر میں نے اسے کھول دیا اور کمان کے کنارے سے قبر کھود کر حضرت عبد اللہ بن مجبیر کو وہاں دفن کر دیا۔237 اللہ تعالیٰ نے جس طرح حضرت عبد اللہ بن جبیر اور ان کے ساتھیوں کو وفا کے ساتھ اور حکم کی روح کو سمجھنے والا بنایا تھا ہمیں بھی توفیق دے کہ ہم اللہ تعالیٰ سے اسی طرح حکم کو سمجھنے والے اور کامل اطاعت کرنے والے ہوں اور اس طرح ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بنتے چلے جائیں۔238