اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 90
اصحاب بدر جلد 5 90 عبادہ بن صامت کو نگران مقرر کیا جانا خصوصاجب کسی قبیلہ کی جائیدادیں زمینوں اور باغات کی صورت میں نہ ہوں جیسا کہ بنو قینقاع کی نہیں تھیں ، ان کی جائیدادیں تو نہیں تھیں اور پھر سارے کے سارے قبیلے کو بڑے امن وامان کے ساتھ ایک جگہ کو چھوڑ کر دوسری جگہ جا کر آباد ہونے کا موقع مل جائے۔چنانچہ بنو قینقاع بڑے اطمینان کے ساتھ مدینہ چھوڑ کر شام کی طرف چلے گئے۔ان کی روانگی کے متعلق ضروری اہتمام اور نگرانی وغیرہ کا کام آنحضرت صلی علیم نے اپنے صحابی عبادہ بن صامت کے سپرد فرمایا، جو ان کے حلیفوں میں سے تھے جن کا ابھی ذکر ہو رہا ہے۔چنانچہ عُبادہ بن صامت چند منزل تک بنو قینقاع کے ساتھ گئے اور پھر انہیں حفاظت کے ساتھ آگے روانہ کر کے واپس لوٹ آئے۔مال غنیمت جو مسلمانوں کے ہاتھ آیا وہ صرف جنگی آلات تھے یا جو ان کا پیشہ تھا اس پر مشتمل آلات تھے اور اس کے علاوہ کوئی ایسی چیز نہیں تھی جو مسلمانوں نے غنیمت میں لی ہو۔210 اس کے بارے میں سیرت الحلبیہ میں بھی کچھ تفصیل ہے۔اس میں لکھا ہے کہ آنحضرت صلی ہم نے حکم دیا کہ ان یہود کو مدینے سے ہمیشہ کے لیے نکال کر جلاوطن کر دیا جائے۔ان کو جلاوطن کرنے کی ذمہ داری آپ صلی علیم نے حضرت عبادہ بن صامت کے سپرد فرمائی اور یہودیوں کو مدینے سے نکل جانے کے لیے تین دن کی مہلت دی۔چنانچہ یہودی تین دن بعد مدینے کو خیر باد کہہ کر چلے گئے۔اس سے پہلے یہودیوں نے حضرت عُبادہ بن صامت سے درخواست کی تھی کہ ان کو تین دین کی جو مہلت دی گئی ہے اس میں کچھ اضافہ کر دیا جائے مگر حضرت عبادہ نے کہا کہ نہیں۔ایک منٹ بھی تمہیں مہلت نہیں دی جاسکتی، بڑھائی نہیں جاسکتی۔پھر حضرت عبادہ نے اپنی نگرانی میں ان کو جلاوطن کیا اور یہ لوگ ملک شام کی ایک بستی کے میدانوں میں جاہیے۔211 عبادہ بن صامت کی روایات حضرت عبادہ بن صامت سے حدیثوں کی بہت ساری دوسری روایات بھی مروی ہیں۔ایک روایت ان سے یہ ملتی ہے کہ رسول اللہ صلی علیکم کی مصروفیات بہت زیادہ تھیں اس لیے مہاجرین میں سے کوئی آدمی جب رسول اللہ صلی علیکم کی خدمت میں حاضر ہو تا تو رسول اللہ صلی املی کام اسے قرآن سکھانے کے لیے ہم میں سے کسی کے حوالے کر دیتے تھے کہ ان کو لے جاؤ اور قرآن سکھاؤ۔دینی تعلیم بھی سکھاؤ۔کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی علیم نے ایک آدمی کو میرے سپرد کیا۔وہ میرے ساتھ گھر میں رہتا تھا اور میں اسے اپنے گھر والوں کے کھانے میں شریک کرتا تھا، اسے قرآن پڑھا تا تھا۔جب وہ اپنے گھر والوں کے پاس واپس جانے لگا تو اس نے خیال کیا کہ اس پر میر ا حق بنتا ہے یعنی اس کے رہنے کی وجہ سے اور اتنی خدمت کی وجہ سے اور قرآن سکھانے کی وجہ سے اس کے اوپر میر اکچھ حق بن جاتا ہے۔چنانچہ اس وجہ سے اس نے مجھے ایک کمان ہدیہ پیش کی۔تیر کمان کی کمان تحفہ پیش کی اور کہتے ہیں کہ وہ ایسی اعلیٰ قسم کی