اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 57 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 57

اصحاب بدر جلد 5 49 57 ابتدائی اسلام قبول کرنے اور اسلام کی خاطر تکالیف اٹھانے والے آپ اسلام لانے والے سابقین میں شامل تھے۔پہلے اسلام لانے والوں میں شامل تھے۔رسول اللہ صلی علی یم کے دار ارقم میں جانے سے قبل اسلام لا چکے تھے اور حضرت ابو بکر کی بکریاں چرایا کرتے تھے۔اسلام لانے کے بعد کافروں کی طرف سے آپ کو بڑی تکالیف پہنچائی گئیں۔پھر حضرت ابو بکر نے انہیں خرید کر آزاد کر دیا۔غار ثور میں قیام کے وقت یہ وہاں بکریاں چرایا کرتے ہجرت مدینہ کے وقت جب رسول اللہ صلی علی یکم اور حضرت ابو بکر غار ثور میں تھے تو آپ حضرت ابو بکر کی بکریاں چراتے تھے۔حضرت ابو بکڑ نے انہیں حکم دیا تھا کہ بکریاں ہمارے پاس لے آیا کرنا۔پس آپ سارا دن بکریاں چراتے تھے اور شام کو حضرت ابو بکر کی بکریاں غار ثور کے قریب لے جاتے تھے۔تو آپ دونوں اصحاب خود بکریوں کا دودھ دوہ لیتے تھے یعنی آنحضرت صلی ا یم اور ابو بکر۔جب عبد اللہ بن ابی بکر ان دونوں یعنی آنحضرت صلی علیہ ظلم اور حضرت ابو بکر کے پاس جاتے تھے تو حضرت عامر بن فهيره ان کے پیچھے پیچھے جاتے تھے تاکہ ان کے قدموں کے نشان مٹ جائیں۔پتہ نہ لگے کہ حضرت ابو بکر کے بیٹے کہاں جارہے ہیں، کفار کو کسی قسم کا شک نہ پڑے۔آنحضرت علی ایم کے ساتھ مدینہ کی طرف ہجرت جب رسول اللہ صلی ا ولم اور حضرت ابو بکر غار ثور سے نکل کر مدینہ کو روانہ ہوئے تو اس وقت حضرت عامر بن فہیرہ نے بھی ان کے ساتھ ہجرت کی۔حضرت ابو بکر نے ان کو اپنے پیچھے بٹھا لیا تھا۔اس وقت ان کو راستہ دکھانے والا بنُو الدِّيْل کا ایک مشرک شخص تھا۔4 مواخات اور شہادت تیل 164 رسول اللہ صلی الم نے ہجرت کے بعد حضرت عامر بن فہیرہ اور حضرت حارث بن اوس بن مُعاذ کے درمیان مواخات قائم کروائی تھی۔حضرت عامر بن فهيدہ غزوہ بدر اور احد میں شریک تھے اور بئر معونہ کے موقع پر چالیس سال کی عمر میں ان کی شہادت ہوئی۔165 حضرت ابو بکڑ نے ہجرت سے قبل سات ایسے غلاموں کو آزاد کروایا تھا جن کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں تکلیف دی جاتی تھی جن میں سے ایک حضرت بلال تھے اور حضرت عامر بن فهيدہ بھی شامل تھے۔166 ہجرت مدینہ اور حضرت عائشہ کی بیان کردہ کچھ تفصیل ہجرت کا واقعہ بیان کرتے ہوئے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک دن ہم حضرت ابو بکر کے گھر ٹھیک دوپہر کے وقت بیٹھے ہوئے تھے، یعنی اپنے گھر میں بیٹھے ہوئے تھے۔کسی کہنے والے نے