اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 52
اصحاب بدر جلد 5 52 52 خدا تعالیٰ کے خوف اور خشیت کی یہ حالت تھی ان چمکتے ہوئے ستاروں کی ایک شخص حضرت عامر بن ربیعہ کا مہمان بنا انہوں نے اس کی خوب خاطر تواضع کی اور اکرام کیا اور ان کے بارے میں حضور صلی ال کلم سے سفارش کی بات کی۔وہ آدمی حضور صلی علیکم کے پاس سے حضرت عامر کے پاس آیا اور کہا میں نے حضور عملی ٹیم سے ایک ایسی وادی بطور جاگیر مانگی تھی کہ پورے عرب میں اس سے اچھی وادی نہیں ہے اور آنحضرت صلی للہ تم نے مجھے وہ عطا فرما دی ہے۔اب میں چاہتا ہوں کہ اس وادی کا ایک ٹکڑہ آپ کو دے دوں جو آپ کی زندگی میں آپ کا ہو اور آپ کے بعد آپ کی اولاد کے لئے ہو۔حضرت عامر نے کہا کہ مجھے تمہارے اس ٹکڑے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ آج ایک ایسی سورت نازل ہوئی ہے جس نے ہمیں دنیا ہی بھلا دی ہے اور وہ یہ ہے کہ اقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ مُعْرِضُونَ (الانبياء :2) 145 کہ لوگوں کے لئے ان کا حساب قریب آگیا ہے اور وہ باوجود اس کے غفلت کی حالت میں منہ پھیرے ہوئے ہیں۔خدا تعالیٰ کے خوف اور خشیت کی یہ حالت تھی ان چپکتے ہوئے ستاروں کی۔اور یہی وہ لوگ تھے جو حقیقی طور پر دین کو دنیا پر مقدم کرنے والے تھے۔اگر تمہیں ان کا عہد نصیب ہو جائے تو میر اسلام پیش کرنا حضرت عامر بن ربیعہ سے روایت ہے کہ زید بن عمرو نے کہا میں نے اپنی قوم کی مخالفت کی۔ملت ابراہیمی کی اتباع کی۔مجھے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ایک نبی کے ظہور کا انتظار تھا جن کا اسم گرامی احمد ہو گا۔لیکن یوں لگتا ہے کہ میں انہیں پا نہ سکوں گا۔میں ان پر ایمان لاتا ہوں ان کی تصدیق کرتا ہوں۔میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ نبی ہیں۔میں تمہیں ان کی ایسی علامات بتاتا ہوں کہ وہ تمہارے لئے مخفی نہیں رہیں گے۔وہ نہ طویل قامت ہیں، نہ ہی پست قامت۔ان کے بال نہ کثیر ہوں گے ، نہ قلیل۔ان کی آنکھوں میں سرخی ہر وقت رہے گی۔ان کے کندھوں کے مابین مہر نبوت ہو گی۔ان کا نام احمد ہو گا۔یہ شہر مکہ ان کی جائے ولادت اور بیعت کی جگہ ہو گی۔پھر ان کی قوم انہیں یہاں سے نکال دے گی۔وہ ان کے پیغام کو نا پسند کرے گی۔پھر وہ یثرب کی طرف ہجرت کریں گے۔پھر ان کا امر غالب آجائے گا۔ان کی وجہ سے دھو کہ میں نہ پڑنا۔میں نے دین ابراہیمی کی تلاش میں سارے شہر چھان مارے ہیں۔میں نے یہودیوں، عیسائیوں اور آتش پرستوں سب سے پوچھا ہے۔انہوں نے بتایا ہے کہ یہ دین تمہارے پیچھے ہے۔انہوں نے مجھے وہی علامات بتائیں جو میں نے تمہیں بتائی ہیں۔انہوں نے بتایا ان کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔حضرت عامر نے کہا جب رسول اکرم صلی یکم مبعوث ہوئے تو میں نے آپ صلی یی کم کو زید کے بارے میں بتایا۔آپ صلی ایم نے فرمایا میں نے اسے جنت میں دیکھا ہے وہ اپنا دامن گھسیٹ رہا تھا۔146