اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 519
اصحاب بدر جلد 5 519 1215 حضرت یزید کے ایک بھائی کا نام حضرت سعید بن رقیش تھا جنہوں نے اپنے اہل و عیال کے ہمراہ مکے سے مدینے کی طرف ہجرت کی، جن کا شمار اولین مہاجرین میں ہوتا ہے۔حضرت یزید کے ایک بھائی کا نام حضرت عبد الرحمن بن رقیش تھا جو غزوہ احد میں شریک ہوئے تھے۔1216 حضرت یزید کی ایک بہن کا نام حضرت آمنہ بنت رُقیش تھا جنہوں نے شروع میں ہی ملے میں اسلام قبول کر لیا تھا اور انہوں نے بھی اپنے اہل و عیال کے ساتھ مدینے کی طرف ہجرت کی تھی۔7 شہادت حضرت یزید جنگ یمامہ کے روز 12 ہجری میں شہید ہوئے تھے۔1218 جنگ یمامہ 1217 رض اس جنگ کی کچھ تفصیل اس طرح سے ہے، ایک دفعہ پہلے بھی کچھ میں تھوڑا سا مختصر بیان کر چکا ہوں۔جنگ یمامہ حضرت ابو بکر کے دورِ خلافت میں 11 ہجری میں ہوئی تھی۔بعض مورخین نے مطابق 12 ہجری میں ہوئی تھی۔یہ جنگ مسیلمہ کذاب کے خلاف یمامہ کے مقام پر لڑی گئی تھی۔حضرت ابو بکر نے حضرت عکرمہ بن ابو جہل کی سرکردگی میں ایک لشکر مسیلمہ کے مقابلے کے لیے بھیجا۔ان کے پیچھے ان کی مدد کے لیے حضرت شتر خبیل بن حسنہ کی سرکردگی میں ایک لشکر روانہ کیا۔حضرت عکرمہ نے حضرت شتر خبیل کے پہنچنے سے پہلے ہی مسیلمہ سے لڑائی شروع کر دی تا کہ کامیابی کا سہرا ان کے سر ہو لیکن مسیلمہ سے انہیں شکست ہوئی۔اس واقعے کی اطلاع جب حضرت شتر خبیل کو ملی تو وہ راستے میں رک گئے۔حضرت عکرمہ نے اپنی سرگذشت حضرت ابو بکر کو لکھی تو حضرت ابو بکر نے انہیں لکھا کہ نہ تم مجھے اس حالت میں ملو اور نہ میں تمہیں دیکھوں اور نہ مدینے واپس آؤ جس سے لوگوں میں بزدلی پیدا ہو بلکہ اپنے لشکر کو لے کر اہل عمان اور مھرہ کے باغیوں کے ساتھ جا کر لڑائی کرو۔اس کے بعد یمن اور حضر موت میں باغیوں کے ساتھ جاکر لڑو۔حضرت ابو بکر نے حضرت شتر خبیل کو لکھا کہ تم حضرت خالد بن ولید کے آنے تک اپنی جگہ ٹھہرے رہو۔حضرت ابو بکر نے حضرت خالد مو مسیلمہ کذاب کے مقابلے کے لیے روانہ کیا اور ان کے ساتھ مہاجرین اور انصار کی ایک بڑی جماعت روانہ فرمائی۔انصار کی جماعت کے سردار حضرت ثابت بن قیس اور مہاجرین کے سردار حضرت ابو حذیفہ اور حضرت زید بن خطاب تھے۔حضرت شرحبیل نے حضرت خالد کے آنے سے پہلے مسیلمہ کذاب کے خلاف جنگ شروع کر دی اور پسپا ہو گئے۔حضرت ابو بکر نے حضرت خالد کے لیے حضرت سلیط کی قیادت میں مزید کمک روانہ کر دی تاکہ پیچھے سے کوئی ان پر حملہ نہ کر سکے۔حضرت ابو بکر فرمایا کرتے تھے کہ میں نہیں چاہتا کہ میں بدری صحابہ کو استعمال کروں۔میں انہیں اس حال میں چھوڑ نا پسند کرتا ہوں کہ وہ اپنے صالح اعمال کے ساتھ اللہ سے ملاقات کریں۔اللہ تعالیٰ ان کی برکت سے اور نیک لوگوں کی رض