اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 502
اصحاب بدر جلد 5 502 میں کبھی بھی نہیں بھولوں گا۔اور حضرت کعب کہتے تھے کہ جب میں نے رسول اللہ صلی ا یکم کو السلام علیکم کہا تو رسول اللہ صلی یم نے فرمایا اور آپ کا چہرہ خوشی سے چمک رہا تھا۔پھر آپ نے فرمایا تمہیں بشارت ہو نہایت ہی اچھے دن کی، ان دنوں میں سے جب سے تمہاری ماں نے تمہیں جنا ہے جو تم پر گزرے ہیں۔کہتے تھے کہ میں نے پوچھا یا رسول اللہ ! کیا یہ بشارت آپ کی طرف سے ہے یا اللہ کی طرف سے؟ آپ صلی ایم نے فرمایا نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے ہے۔رسول اللہ صلی تمیز کم جب خوش ہوتے تھے تو آپ کا چہرہ ایساروشن ہو جاتا کہ گویاوہ چاند کا ٹکڑا ہے اور ہم اس سے آپ کی خوشی پہچان لیا کرتے تھے۔شکرانے میں اپنی ساری جائداد سے دستبردار ہوتا ہوں کہتے ہیں کہ جب میں آپ صلی امید یکم کے سامنے بیٹھ گیا تو میں نے کہا یارسول اللہ ! میں اس تو بہ کے قبول ہونے کے عوض اپنی جائیداد سے دست بردار ہو تا ہوں جو اللہ اور اس کے رسول کی خاطر صدقہ ہو گی۔رسول اللہ صلی الیم نے فرمایا اپنی جائیداد میں سے کچھ اپنے لیے بھی رکھو کیونکہ یہ تمہارے لیے بہتر ہے۔میں نے کہا اپنا وہ حصہ رکھ لیتا ہوں جو خیبر میں ہے۔میں نے کہا یار سول اللہ ! اللہ نے مجھے صدق کی وجہ سے نجات دی اور میری توبہ میں سے یہ بھی ہے کہ میں ہمیشہ ہی سچ بولا کروں گا جب تک کہ میں زندہ رہوں گا کیونکہ میں اللہ کی قسم ! مسلمانوں میں سے کسی کو نہیں جانتا کہ اللہ نے اس کو سچی بات کہنے کی وجہ سے اس خوبی کے ساتھ آزمایا ہو جس خوبی سے میری آزمائش کی ہے۔اس وقت سے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللی کام سے اصل واقعہ بیان کیا میں نے آج تک عمد اجھوٹ نہیں بولا اور پھر یہ کہتے ہیں کہ میں امید رکھتا ہوں کہ اللہ آئندہ بھی جب تک زندہ ہوں مجھے جھوٹ سے محفوظ رکھے گا۔پھر کہتے ہیں کہ اللہ نے اپنے رسول صلی علی کم پر یہ وحی نازل کی اور اللہ نبی پر اور مہاجرین اور انصار پر توبہ قبول کرتے ہوئے جھکا جنہوں نے تنگی کے وقت اس کی پیروی کی تھی، بعد اس کے کہ قریب تھا کہ ان میں سے ایک فریق کے دل ٹیڑھے ہو جاتے۔پھر بھی اس نے ان کی توبہ قبول کی یقیناوہ ان کے لیے بہت ہی مہربان اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔بہر حال کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم! اس کے بعد کہ اللہ نے مجھے اسلام کی ہدایت دی، کبھی بھی اس نے کوئی انعام میرے نزدیک اس سے بڑھ کر نہیں کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللی نیم سے سچ سچ بیان کر دیا۔کہتے ہیں کہ شکر ہے کہ میں نے آپ صلی یہ کم سے جھوٹ نہیں بولاور نہ میں ہلاک ہو جاتا جیسا کہ وہ لوگ ہلاک ہو گئے جنہوں نے جھوٹ بولا تھا۔پھر کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جھوٹ بولنے والوں کے بارے میں نہایت ہی نفرت آمیز الفاظ استعمال کیسے ہیں جو اس نے کسی کے لیے استعمال کیے ہوں۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا جب تم ان کی طرف لوٹو گے وہ تمہارے سامنے اللہ کی قسمیں کھائیں گے۔اللہ ان بد عہد لوگوں سے کبھی خوش نہیں ہو گا۔