اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 499 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 499

اصحاب بدر جلد 5 499 کہنے لگے کہ ایک تو مرارہ بن ربیع عمری ہیں اور دوسرے ھلال بن امیہ واقعی ہیں۔حضرت کعب کہتے ہیں کہ انہوں نے مجھ سے ایسے دو نیک آدمیوں کا ذکر کیا جو بدر میں شریک ہو چکے تھے۔ان دونوں میں میرے لیے نمونہ تھا۔جب لوگوں نے ان دونوں کا مجھ سے ذکر کیا تو میں ان کے پاس سے چل پڑا اور رسول اللہ کی لیکم نے مسلمانوں کو ہم سے بات چیت کرنے سے منع کر دیا۔جب یہ ذکر ہو گیا کہ ہاں دو شخص اور ہیں تب مجھے خیال آیا کہ یہ دونوں حقیقی نیک لوگ ہیں، بدر میں بھی شامل ہو چکے ہیں۔اس لیے میں اب انھی کے ساتھ شامل ہوں گا۔کوئی غلط بہانہ نہیں کروں گا۔کہتے ہیں میں چلا گیا اور اس دوران میں آنحضرت صلی للی یکم نے مسلمانوں کو ہم سے بات چیت کرنے سے منع کر دیا یعنی ایک طرح کا مقاطعہ ہو گیا۔لوگ ان سے کترانے لگے جو ان لوگوں میں سے تھے جو آپ سے پیچھے رہ گئے تھے۔گویا کہ ہم سے بالکل نا آشنا ہیں۔اس بات پہ جب منع کر دیا گیا تو ہمارے سامنے نہیں آتے تھے ، ہم سے بچتے تھے جس طرح ہمیں جانتے ہی نہ ہوں یہاں تک کہ یہ زمین بھی مجھے اوپری نظر آنے لگی۔وہ نہ تھی جس کو میں جانتا تھا۔مدینے کی گلیاں یہ شہر یہ زمین میرے لیے بالکل اوپری ہو گئی۔یہ مجھے وہ چیز نہیں لگ رہی تھی جس کو میں پہلے جانتا تھا۔لگتا تھا میں ایک نئی جگہ پر آگیا ہوں کیونکہ لوگ میرے سے کترارہے تھے۔بہر حال کہتے ہیں کہ اس حالت پر پچاس راتیں رہے۔اور جو میرے دوسرے دو ساتھی تھے حضرت هلال بن امیہ اور مرارہ بن ربیع انہوں نے شدید شرمندگی محسوس کی اور ان کا تو یہ حال تھا کہ وہ اپنے گھروں میں بیٹھ کر رونے لگے۔وہ ھلال وغیرہ تو گھروں سے باہر ہی نہیں نکلے۔حضرت ھلال تو گھر میں رہے۔مستقل گھر میں رہتے تھے اور روتے تھے اور حضرت کعب کہتے ہیں کہ میں تو ان لوگوں میں زیادہ جوان تھا اور ان لوگوں سے مصیبت کو زیادہ برداشت کرنے والا تھا۔میں باہر بھی نکلتا تھا اور مسلمانوں کے ساتھ نمازوں میں شرکت کرتا تھا۔میں گھر میں بیٹھ کر روتا نہیں رہا۔ان کی طرح استغفار نہیں کرتا رہا۔استغفار کرتا تھا لیکن ساتھ ہی میں باہر بھی نکلتا تھا اور مسلمانوں کے ساتھ نمازوں میں بھی شریک ہو تا تھا۔مسجد بھی آتا تھا۔بازاروں میں بھی پھرتا تھا مگر مجھ سے کوئی بات نہیں کرتا تھا اور میں رسول اللہ صلیالم کے پاس بھی جاتا تھا۔مسجد میں مجلس لگی ہوتی تھی تو وہاں بھی جاتا تھا۔آپ کو سلام کرتا تھا جبکہ آپ نماز کے بعد اپنی جگہ بیٹھے ہوتے اور اپنے دل میں کہتا کہ کیا آپ صلی الیکم نے مجھے سلام کا جواب دینے میں اپنے ہونٹ ہلائے ہیں یا نہیں اور آپ کے قریب ہو کر نماز پڑھتا اور نظر چرا کر آپ کو دیکھتا اور جب نماز پڑھنے لگتا تو آپ میری طرف دیکھتے اور جب میں آپ کی طرف توجہ کرتا تو آپ مجھ سے منہ پھیر لیتے۔جب لوگوں کی یہ درشتی مجھ پر طول پکڑ گئی تو میں چلا اور میں نے حضرت ابو قتادہ کے باغ کی دیوار کو پھلا نگا۔یہ میرے چچا کے بیٹے تھے اور مجھے تمام لوگوں سے زیادہ پیارے تھے۔کہتے ہیں میں نے ان کو