اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 486
اصحاب بدر جلد 5 486 باپ کا حال بتارہے ہو۔اس سوار نے کہا کہ تمہارے دونوں بھائی بھی مارے گئے۔مگر اس عورت نے پھر یہی کہا کہ تم میرے سوال کا جواب جلد دو۔میں رشتے داروں کے متعلق نہیں پوچھتی۔میں تو آنحضرت صلی علیکم کے متعلق پوچھتی ہوں۔اس صحابی کا دل چونکہ مطمئن تھا اور جانتا تھا کہ آپ بخیریت ہیں۔اس لیے اس کے نزدیک اس عورت کے لیے سب سے اہم سوال یہی تھا کہ اس کے متعلقین کی موت سے اسے آگاہ کیا جائے مگر اس عورت کے نزدیک سب سے پیاری چیز آنحضرت صلی علیکم کی ذات تھی۔اس لیے اس نے جھڑک کر کہا کہ تم میرے سوال کا جواب دو۔اس پر اس نے کہا کہ رسول کریم صلی علی کی تو خیریت سے ہیں۔یہ سن کر اس عورت نے کہا کہ جب آپ زندہ ہیں تو پھر مجھے کوئی غم نہیں خواہ کوئی مارا جائے۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ اور ظاہر ہے کہ اس مثال کے سامنے اس بڑھیا کی مثال کی کوئی حقیقت نہیں جس کے متعلق خود نامہ نگار کو اعتراف ہے، کسی واقعہ کے بارے میں ذکر کر رہے ہیں کہ اس کا دل مغموم) غم کے بوجھ سے دبا ہوا معلوم ہو تا تھا اور آپے بیان کرتے ہیں وہ دل میں رو رہی تھی۔کسی کا ایک واقعہ بیان کیا ہے کہ دل مغموم تھا اور دل میں رور ہی تھی لیکن اظہار نہیں کیا۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں مگر صحابیہ کا واقعہ یہ نہیں ہے۔یہ نہیں ہے کہ اس نے ضبط کیا ہو ا تھا اور دل میں رورہی تھی اور ظاہر نہیں کر رہی تھی بلکہ یہ صحابیہ تو دل میں بھی خوش تھی کہ رسول کریم ملی ای دلم زندہ ہیں۔اس عورت کے دل پر صدمہ ضرور تھا گو وہ اسے ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھی۔جس عورت کا بھی اپنے اس بیان میں ذکر فرمارہے ہیں یا اخباروں نے اس زمانے میں اس کو لکھا تھا جب آپ نے یہ بیان فرمایا مگر اس صحابیہ کے دل پر تو کوئی صدمہ بھی نہیں تھا اور یہ ایسی شاندار مثال ہے کہ دنیا کی تاریخ اس کی کوئی نظیر پیش نہیں کر سکتی اور بتاؤ اگر ایسے لوگوں کے متعلق یہ نہ فرمایا جاتا کہ مِنْهُمْ مَّنْ قَضَى نَحْبَه تو دنیا میں اور کون سی قوم تھی جس کے متعلق یہ الفاظ کہے جاتے ؟ حضرت مصلح موعود کہتے ہیں میں جب اس عورت کا واقعہ پڑھتا ہوں تو میر ادل اس کے متعلق ادب اور احترام سے بھر جاتا ہے اور میر ادل چاہتا ہے کہ میں اس مقدس عورت کے دامن کو چھوؤں اور پھر اپنے ہاتھ آنکھوں سے لگاؤں کہ اس نے میرے محبوب کے لیے اپنی محبت کی ایک بے مثل یاد گار چھوڑی۔پھر اسی عشق و محبت کا ذکر بیان کرتے ہوئے ایک اور جگہ آپ نے اس طرح بیان فرمایا کہ " دیکھو اس عورت کو رسول کریم صلی علیم سے کس قدر عشق تھا۔لوگ اسے یکے بعد دیگرے باپ بھائی اور خاوند کی وفات کی خبر دیتے چلے گئے لیکن وہ جواب میں ہر دفعہ یہی کہتی چلی گئی کہ مجھے بتاؤ کہ رسول کریم صلی علی سم کا کیا حال ہے ؟ غرض یہ بھی ایک عورت ہی تھی جس نے رسول کریم صلی علیم سے اس قدر عشق کا مظاہرہ کیا۔" 1133 1132 پھر ایک دوسری جگہ آپ اس بارے میں مزید فرماتے ہیں کہ ذرا اس حالت کا نقشہ اپنے ذہنوں میں اب کھینچو۔تم میں سے ہر ایک نے مرنے والے کو دیکھا ہو گا۔کوئی نہ کوئی قریبی مرتا ہے۔کہ کسی نے اپنی ماں کو ، کسی نے باپ کو ، کسی نے بھائی کو ، بہن کو مرتے دیکھا ہو گا۔ذرا وہ نظارہ تو یاد کرو کہ کس طرح