اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 487
اصحاب بدر جلد 5 487 اپنے عزیزوں کے ہاتھوں میں اور گھروں میں اچھے سے اچھے کھانے پکوا کر اور کھا کر ، علاج کروا کر اور خدمت کر ا کر مرنے والوں کی حالت کیا ہوتی ہے اور کس طرح گھر میں قیامت برپا ہوتی ہے اور مرنے اپنے والوں کو سوائے اپنی موت کے کسی دوسری چیز کا خیال تک بھی نہیں ہوتا مگر آنحضرت کا صحابہ کے دلوں میں ایسا عشق پیدا کر دیا تھا کہ انہیں آپ کے مقابلے میں کسی اور چیز کی پرواہی نہ تھی مگر یہ عشق صرف اس وجہ سے تھا کہ آپ خدا تعالیٰ کے پیارے ہیں۔آنحضرت صلی علیم سے اگر عشق تھا تو اس وجہ سے تھا کہ آپ صلی می نام خدا تعالیٰ کے پیارے ہیں۔آپ کے محمد کہونے کی وجہ سے عشق نہیں تھا بلکہ آپ کے رسول اللہ ہونے کی وجہ سے یہ تھا۔پھر آپؐ فرماتے ہیں کہ وہ لوگ دراصل خدا تعالیٰ کے عاشق تھے اور چونکہ خدا تعالیٰ محمد رسول اللہ صلی المیم سے پیار کرتا تھا اس لیے آپ کے صحابہ آپ سے پیار کرتے تھے اور صرف مرد ہی نہیں بلکہ عورتوں کو بھی دیکھ لو ان کے دلوں میں بھی آپ کی ذات کے ساتھ کیا محبت اور کیا عشق تھا۔پھر آپ نے اس عورت کا یہ واقعہ بھی بیان فرمایا۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ یہ محبت تھی جو خدا تعالیٰ نے آنحضرت صلی ایم کے متعلق ان لوگوں کے دلوں میں پیدا کر دی تھی مگر باوجود اس کے وہ خدا تعالیٰ کو ہر چیز پر مقدم رکھتے تھے اور یہی توحید تھی جس نے ان کو دنیا میں ہر جگہ غالب کر دیا تھا۔خدا تعالیٰ کے مقابلے میں وہ نہ ماں باپ کی پروا کرتے تھے اور نہ بہن بھائیوں کی اور نہ بیویوں کی اور خاوندوں کی۔ان کے سامنے ایک ہی چیز تھی اور وہ یہ کہ ان کا خدا ان سے راضی ہو جائے۔اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے رضی اللہ عنہم فرما دیا۔انہوں نے اللہ تعالیٰ کو ہر چیز پر مقدم کر لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو مقدم کیا مگر آپ فرماتے ہیں کہ بعد میں مسلمانوں کی یہ حالت نہ رہی اور اب اگر ان کو اللہ تعالیٰ سے تعلق ہے تو محض دماغی ہے۔دماغ میں ضرور ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کو مانتے ہیں۔توحید کے قائل ہیں۔دل میں یہ نہیں ہے۔رسول کریم صلی اللہ کا ذکر اگر ان کے سامنے کیا جائے تو ان کے دلوں میں محبت کی تاریں ہلنے لگتی ہیں۔رسول کریم صلی علیکم کے عزیزوں کے ذکر پہ بھی تاریں ملتی ہیں۔4 شیعہ سنی سب آنحضرت صلی الی یکم اور آپ کی اولاد کے ذکر پر جوش میں آجاتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کے ذکر پر مسلمانوں کے دلوں کی تاریں نہیں ہلتیں حالانکہ آنحضرت صلی ا تم جیسی نعمت ہمیں خدا تعالیٰ نے ہی دی تھی۔پس اللہ تعالیٰ کی محبت اور نام سے بھی ایک ایسا ہیجان ہمارے دلوں میں پید اہونا چاہیے کیونکہ حقیقی ترقی اللہ تعالیٰ کی محبت سے ہی حاصل ہو گی۔توحید پہ قائم رہنے سے ہی حاصل ہو گی۔پس یہ ہے بنیادی اصول جسے ہمیں، ہر ایک کو یادرکھنا چاہیے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے اندر اللہ اور رسول کی حقیقی محبت اور اس کا صحیح ادراک پیدا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔1135 1134